جموں و کشمیر : لشکر دہشت گرد ابو اسماعیل مارا گیا ، امرناتھ یاتریوں پر حملہ کا تھا ماسٹر مائنڈ

Sep 14, 2017 05:42 PM IST | Updated on: Sep 14, 2017 09:59 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقہ نوگام میں جمعرات کی سہ پہر جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے ایک مختصر مسلح تصادم میں لشکر طیبہ کے کشمیر چیف ابو اسماعیل سمیت دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ مارے گئے دونوں جنگجوؤں کا تعلق پاکستان سے تھا۔ ابو اسماعیل رواں برس 10 جولائی کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں یاتریوں کی بس پر ہونے والے حملے کا کلیدی ملزم تھا۔ اس حملے میں کم از کم 8 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے ابو اسماعیل کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ لشکر طیبہ جنگجو امرناتھ یاتریوں پر ہوئے حملے کا کلیدی ملزم تھا۔

انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ’نوگام مسلح تصادم میں امرناتھ یاترا حملے کے کلیدی ملزم ابو اسماعیل اور اس کے ساتھی چھوٹا قاسم کو ختم کیا گیا۔ جموں وکشمیر پولیس کے میرے جوانوںیہ کام جاری رکھو‘۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ سری نگر کے مضافاتی علاقہ آری باغ نوگام میں جنگجوؤں کی نقل وحرکت سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور فوج نے مذکورہ علاقہ میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سیکورٹی فورسز کے اہلکار ایک مخصوص جگہ کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

جموں و کشمیر : لشکر دہشت گرد ابو اسماعیل مارا گیا ، امرناتھ یاتریوں پر حملہ کا تھا ماسٹر مائنڈ

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی اور طرفین کے مابین چند منٹوں تک جاری رہنے والے گولیوں کے تبادلے میں دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت لشکر طیبہ کے چیف ابو اسماعیل اور چھوٹا قاسم کے بطور کی گئی۔ اس دوران کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے ابو اسماعیل سمیت دو غیرملکی جنگجوؤں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو مبارکباد دی۔

مسٹر خان نے جمعرات کی شام یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’آری باغ نوگام میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کا سہ پہر 4 بجکر 15 منٹ پر آمنا سامنا ہوا۔ طرفین کے مابین کچھ منٹوں تک جاری رہنے والی گولہ باری میں دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت کچھ ثبوتوں کی بنیاد پر کی گئی۔ آئی جی پی نے کہا ’مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت لشکر طیبہ کے ابو اسماعیل اور چھوٹا قاسم کے بطور کی گئی۔ ان کے قبضے سے دو اے کے رائفلیں، یو بی جی ایلز اور دیگر اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جنگجو امرناتھ یاتریوں کی گاڑی پر ہوئے حملے جس میں 8 یاتری ہلاک جبکہ 20 دیگر زخمی ہوگئے تھے، میں ملوث تھے۔ آئی جی پی منیر خان نے 6 اگست کو ضلع اننت ناگ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 10 جولائی کو یاتریوں کی گاڑی پر ہوئے حملے میں لشکر طیبہ ملوث ہے۔

انہوں نے کہا تھا ’ہم نے حملہ آوروں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے تین لشکر طیبہ جنگجوؤں بلال احمد ریشی، اعجاز وگے اور ظہور احمد کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے حملہ آور جنگجوؤں کو گاڑی اور موٹر سائیکل فراہم کیا تھا۔ گاڑی پر حملہ ایک مقامی اور تین پاکستانی شہریوں نے انجام دیا تھا‘۔ منیر خان نے حملہ آورر جنگجوؤں کی شناخت ابو اسماعیل، معاویہ اور فرقان ساکنان پاکستان اور ایک مقامی جنگجو یاور کے بطور کردی تھی۔ ریاستی پولیس نے امرناتھ یاتریوں پر ہوئے ہلاکت خیز حملے کی تحقیقات کے لئے جولائی کے دوسرے ہفتے میں ایک چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ڈپٹی انسپکٹر جنرل جنوبی کشمیر ایس پی پانی کررہے تھے۔

ٹیم کے دیگر اراکین میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اننت ناگ الطاف احمد خان، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رینک کا ایک افسر اور دیگر تین پولیس افسران شامل تھے۔ خیال رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں 10 جولائی کی رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 8 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے۔ کراس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 6 یاتریوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس امرناتھ یاترا کے بال تل بیس کیمپ سے جموں کی طرف جارہی تھی۔

پولیس نے ایک بیان میں حملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا تھا ’جنگجوؤں نے ابتدائی طور پر بٹنگو میں پولیس کے ایک بلٹ پروف بنکر پر فائرنگ کی۔ پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ ابتدائی فائرنگ میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اس کے بعد جنگجوؤں نے کھنہ بل میں ایک پولیس ناکے پر فائرنگ کی۔ پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔ سیاحوں (یاتریوں) کی ایک بس فائرنگ کی زد میں آگئی اور نتیجتاً 18 سیاح زخمی ہوگئے۔ ان میں سے 7 سیاح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ فائرنگ کی زد میں آنے والی بس بال تل سے جموں جارہی تھی اور قافلے میں شامل نہیں تھی‘۔ وادی میں تمام لوگوں بشمول علیحدگی پسند قائدین نے یاتریوں پر ہوئے حملے کی بھرپور مذمت کی۔ مختلف سول سوسائٹی گروپوں نے سری نگر کی پرتاب پارک میں جمع ہوکر یاتریوں کی ہلاکت کے خلاف دھرنا دیکر احتجاج کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز