انسانیت نوازی کی ایک اورعمدہ مثال: کشمیری پنڈتانی کی آخری رسوم کا انتظام مسلمانوں نے کیا

Apr 25, 2017 08:03 PM IST | Updated on: Apr 25, 2017 08:03 PM IST

سری نگر۔  کشمیری مسلمانوں نے ایک بار پھر مذہبی ہم آہنگی، اخوت ، انسانیت نوازی اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے ایک مقامی کشمیری پنڈتاتی کی آخری رسوم سرانجام دیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے تراپڑپورہ نامی گاؤں کے تریلوکی ناتھ وانگو کا خاندان اُن سینکڑوں کشمیری پنڈت خاندانوں کی طرح ہے، جو گذشتہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات کے دوران بھی کشمیر میں ہی مقیم رہے اور اپنے ہمسایہ مسلم برادری کے دُکھ سُکھ میں شامل حال رہے ۔ پیر کے روز تریلوکی ناتھ کی اہلیہ کا جب مختصر علالت کے بعد انتقال ہوا، تو قریب تین سو مقامی مسلمانوں نے نم آنکھوں سے اُن کی آخری رسومات کا سارا انتظام خود کیا۔ ایک مقامی انگریزی روزنامے نے اپنی ایک خبر میں کہا ہے کہ شوپیان کے تراپڈپورہ میں جب پیر کے روز تریلوکی ناتھ کی اہلیہ پیاری وانگو کا انتقال ہوا تو قریب تین سو مقامی مسلمانوں نے نہ صرف آنجہانی کی آخری رسومات سرانجام دیں بلکہ اُن کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کے علاوہ چتا کو آگ لگانے کے لئے درکار لکڑی اور دوسری چیزیں مہیا کیں۔ اخبار نے اپنی خبر میں آنجہانی پیاری وانگو کے ایک قریبی رشتہ دار بھوشن لال کے حوالے سے کہا ہے ’ہم اپنے مسلم پڑوسیوں کے بہت شکر گذار ہیں، جو ہر وقت ہمارے دُکھ سُکھ میں شریک رہتے ہیں‘۔ بھوشن لال نے کہا ہے ’وہ (مسلم پڑوسی) ہر وقت ہماری مدد کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی جیسے ہیں۔ ہمیں کبھی اس کا احساس نہیں ہوا کہ ہم اقلیت میں ہیں۔ ہم یہاں اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ پیار، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں‘۔

مقامی مسلمانوں نے نہ صرف پنڈت خاتون کی آخری رسومات انجام دیں بلکہ بعدازاں سوگوار کنبے کے گھر جاکر تعزیت بھی کی۔ اخبار نے اپنی خبر میں فیاض احمد نامی ایک مقامی شہری کے حوالے سے کہا ہے ’یہاں صرف تین پنڈت کنبے رہائش پذیر ہیں جبکہ باقی دیگر 1989 میں ہجرت کرکے چلے گئے۔ ہم اُن کے ہر دُکھ سُکھ میں شریک رہتے ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں سال 1990 ء میں مسلح شورش شروع ہونے کے ساتھ ہزاروں پنڈت اپنے گھر چھوڑ کر ہندوستان کے مختلف حصوں میں مقیم ہوگئے۔ کشمیر میں یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ جب کشمیری مسلمانوں نے کسی پنڈت یا ہندو کی آخری رسومات انجام دی ہوں۔ 22 دسمبر 2016 ء کو جنوبی ضلع کولگام کے قاضی گنڈ میں مقامی مسلمان برادری نے مہاراج نامی کشمیری پنڈت کی آخری رسومات ادا کی۔ 15 جولائی 2016 ء کو گرمائی دارالحکومت سری نگر کے شہر خاص کے شیخ محلہ مہاراج گنج میں مقامی مسلمانوں نے ایک کشمیری پنڈتاتی کی آخری رسومات سرانجام دیں۔ 14 مئی 2016 ء کو کشمیری مسلمانوں نے وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے کولن گنڈ نامی گاؤں کے رہائشی اوتار کرشن کی آخری رسومات انجام دیں۔ 23 اپریل 2016 ء کو سری نگر کے شہر خاص کے علاقہ شیخ محلہ مہاراج گنج کے رہنے والے 90 سالہ ہندو دنراج ملہوترا کی آخری رسومات بھی اُس کے پڑوسی مسلمانوں نے ہی سرانجام دیں۔

انسانیت نوازی کی ایک اورعمدہ مثال: کشمیری پنڈتانی کی آخری رسوم کا انتظام مسلمانوں نے کیا

فوٹو کریڈٹ: کشمیر ریڈر ڈاٹ کام

اس سے قبل فروری 2016 ء کے اوائل میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے مالون گاؤں میں مقامی مسلمانوں نے جانکی ناتھ نامی کشمیری پنڈت کی آخری رسومات انجام دیں۔ گذشتہ برس 13 جولائی کو وادی میں جاری ایجی ٹیشن کے دوران جنوبی کشمیر میں مقامی مسلمانوں نے کرفیو توڑتے ہوئے سری نگر جموں قومی شاہراہ پر ضلع اننت ناگ میں حادثے کی شکار گاڑی میں پھنسے قریب تین درجن امرناتھ یاتریوں کو بحفاظت باہر نکالا تھا جس کے بعد حادثے کی شکار گاڑی میں سوار اترپردیش کے میرٹھ شہر کے رہنے والے یاتری اجیت کمار ارورا نے کہا تھا کہ اگرچہ انہوں نے گاڑی میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کے لئے یاتریوں اور فوجیوں سے مدد مانگی تھی مگر کوئی سامنے نہیں آیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے قریب 50 کشمیری لوگ نمودار ہوئے اور بچاؤ کاروائی شروع کی۔

کشمیریوں کی انسانیت نوازی سے متاثر ہوکر مذکورہ یاتری نے اسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا تھا ’میں کہتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں کو انسانیت سیکھنی ہے تو اِن کشمیری لوگوں سے سیکھو۔ زندگی میں، میں نے پہلی بار انسانیت دیکھی ہے‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز