صدر پرنب مکھرجی کا قوم کے نام آخری خطاب ، ملک کو دوبارہ عدم تشدد کا درس پڑھانے کی ضرورت

صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو کل ان کی مدت کار کے آخری دن الوداعی دی جا چکی ہے۔

Jul 24, 2017 07:53 PM IST | Updated on: Jul 24, 2017 09:06 PM IST

نئی دہلی: ملک میں گئوركشا کے نام پر برپا تشدد کے واقعات کے پیش نظر رخصت پذیر صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی نے رواداری کو ہندوستانی تہذیب کی بنیاد بتاتے ہوئے آج کہا کہ معاشرے کو جسمانی اور زبانی ہرطرح کے تشدد سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسٹر مکھرجی نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ذمہ دار معاشرے کی تعمیر کے لئے رواداری اور عدم تشدد کی طاقت کے احیا کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا،کہ "روزانہ ہم اپنے ارد گرد تشدد کو اضافہ پذیردیکھ رہے ہیں. اس تشدد کی جڑ میں جہالت، خوف اور بد اعتمادی ہے۔ ہمیں اپنے عوامی مکالموں کو جسمانی اور زبانی ہر طرح کے تشدد سے پاک کرنا ہوگا۔ "

صدر نے کہا کہ تمام قسم کے تشدد سے آزاد معاشرے میں ہی کسی جمہوری عمل میں لوگوں کے تمام طبقوں، خاص طور پسماندہ اور غریب لوگوں کی شرکت یقینی بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں ایک ہمدرد اور ذمہ دار معاشرے کی تعمیر کے لئے عدم تشدد کی طاقت کا احیا کرنا ہوگا۔" ثقافت، عقیدہ اور زبان کے تنوع کو ہندستان کی خاصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا،کہ"ہمیں رواداری سے طاقت حاصل ہوتی ہے۔ یہ صدیوں سے ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ رہا ہے '۔ عوامی مکالمات کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ "ہم بحث مباحثے میں کسی سے متفق بھی سکتے ہیں اور غیر متفق بھی، لیکن ہم متفرق خیالات کی لازمی موجودگی سے انکار نہیں سکتے۔ بصورت دیگر ہمارے فکری عمل کی اصل شکل ہی تباہ ہو جائے گی "۔

صدر پرنب مکھرجی کا قوم کے نام آخری خطاب ، ملک کو دوبارہ عدم تشدد کا درس پڑھانے کی ضرورت

مسٹر مکھرجی نے کہاکہ ہندستان کی روح تکثیریت اور رواداری میں بستی ہے۔ ہندستان صرف ایک جغرافیائی اقتدار نہیں، بلکہ اس میں نظریات، فلسفہ، دانشمندی، صعنتی صلاحیت، دستکاری، اختراع اور تجربہ کی تاریخ موجود ہے۔ صدیوں سے مختلف نظریات کو سمو کر ہندستانی سماج کی تکثیریت کی تعمیر ہوئی ہے۔ انہوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ہمہ گیر سماج کے تصور کا ذکر کرتےہوئے کہاکہ گاندھی جی ہندستان کو ایک ایسے شمولیاتی ملک کی شکل میں دیکھتے تھے، جہاں سماج کا ہر طبقہ یکساں حقوق کے ساتھ رہتا ہو اور اسے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ بابائے قوم چاہتے تھے کہ تمام ہندستانی مل جل کر رہتے ہوئے مستقل جامع ہوتے ہوئے نظریات اور کام کی سمت میں آگے بڑھیں۔

مسٹر مکھرجی نے اقتصادی ہمہ گیری کو مساوات کے اصول پر مبنی سماج کی اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ’ہمیں غریب سے غریب شخص کو بااختیار بنانا ہوگا اور یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری پالیسیوں کا فائدہ سماج کے سب سے کمزور شخص تک پہنچے۔ انہوں نے کہاکہ خوشحالی کا ہدف مسلسل ترقی کے اس مقصد کے ساتھ مضبوطی سے بندھا ہوا ہے، جو انسانی بہبود، سماجی ہم آہنگی اور ماحولیات کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ مسٹر مکھرجی نے کہاکہ غریبی مٹانے سے بھرپور خوشحالی آئے گی۔ ماحولیات کے تحفظ سے زمین کے وسائل کا نقصان کم ہوگا۔ سماجی ہم آہنگی کا ترقی کا فائدہ سبھی کو ملے گا۔ خوش حکمرانی سے لوگ شفافیت، جوابدہی، شراکت داری پر مبنی سیاسی اداروں کے توسط سے اپنی زندگی سنواریں گے۔

ماحول کے تحفظ کو انسانی وجود کیلئے لازمی قرار دیتےہوئے انہوں نے کہاکہ آب و ہوا کی تبدیلی سے زرعی شعبہ پر زبردست اثر پڑا ہے۔ سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کو مٹی کی سطح بہتر بنانے، آبی سطح میں کمی کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کو روکنے کیلئے کروڑوں کسانوں اور مزودروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے دور صدارت کے آغاز پر کہا تھا کہ تعلیم ایسا ذریعہ ہے جو ہندستان کو زریں دور میں لے جا سکتا ہے۔ تعلیم کی انقلابی طاقت سے سماج کو ازسرنو منظم کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے ہمیں اپنے اعلی تعلیمی اداروں کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔

ہندستانی یونیورسٹیوں کو ’رٹو‘ طالب علموں کی جگہ بنانے کے بجائے متجسس افراد کا مقام بنانے کی وکالت کرتے ہوئے مسٹر مکھرجی نے کہاکہ ہمیں اعلی تعلیمی اداروں میں تعمیری سوچ، اختراعی ذہن اور سائنسی رجحان کو فروغ دینا ہوگا جس کے لئے بحث و مباحثہ، غور و فکر اورتجزیہ کے منطقی استعمال کی ضرورت ہے۔ مسٹر مکھرجی نے کہاکہ ’گزشتہ 50 برسوں کی سیاسی زندگی کے دوران ہندستان کا آئین ان کے لئے ایک مقدس کتاب رہا ہے، پارلیمنٹ ان کا مندر اور عوام کی خدمت ان کی خواہش رہی ہے۔

صدر نے کہاکہ ’پانچ برس پہلے جب میں نے صدارت کے عہدہ کا حلف لیا تو میں نے اپنے آئین کا نہ صرف لفظ بہ لفظ بلکہ معنوی اعتبار سے بھی اس کے تحفظ اور دفاع کا وعدہ کیا تھا۔ ان پانچ برسوں کے دوران ہر روز مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس رہا۔ میں نے ملک کے دور دراز حصوں کے سفر سے سبق لیا۔ میں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان اور باصلاحیت افراد ، سائنسدانوں اور مخترعین، دانشوروں، ماہرین قانون، مصنفین، فنکاروں اور مختلف شعبوں کے ممتاز افراد کے ساتھ تبادلہ خیال سے بہت کچھ سیکھا۔ یہ بات چیت مجھے یکسوئی اور تحریک دیتی رہی۔

صدر نے 2012 کے یوم آزادی سے ایک دن پہلے کی شام کو قوم کے نام اپنے خطاب کی کچھ سطریں دہرائیں جس میں انہوں نے کہاکہ تھا کہ میرے پاس اس عظیم عہدہ کا اعزاز ملنے پر ملک کے عوام اور ان کے نمائندوں کے تئیں ممنونیت کا اظہار کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔ اگرچہ مجھے اس بات کا پورا احساس ہے کہ جمہوریت میں سب سے بڑا اعزاز کسی منصب سے نہیں بلکہ ہماری مادر وطن ہندستان کا شہری ہونے میں ہے۔ اپنی ماں کے سامنے ہم سبھی بچوں کی طرح ہیں اور ہندستان ہم میں سے ہر ایک سے یہ توقع رکھتا ہے کہ قوم کی تعمیر کے اس مشکل کام میں ہم جو بھی کردار ادا کر رہے ہیں، اسے ہم ایمانداری، لگن اور آئین کے مسلمہ اصولوں کے تئیں پوری وفاداری کے ساتھ نبھائیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز