تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر لا کمیشن کی نظریں مرکوز ، فیصلہ کے بعد تیار ہوگا یکساں سول کوڈ کا مسودہ

May 18, 2017 06:19 PM IST | Updated on: May 18, 2017 06:19 PM IST

نئی دہلی : ان دنوں ایک طرف جہاں ملک بھر کی نظر تین طلاق کے معاملہ پر سپریم کورٹ میں چل رہی تاریخی سماعت پر مرکوز ہے ، وہیں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے یکساں سول کوڈ کا مستقبل بھی طے ہوجائے گا ۔ لا کمیشن کے چیئرمین جسٹس بی ایس چوہان کے مطابق یکساں سول کوڈ کے مجوزہ ڈرافٹ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہی تیار کیا جائے گا۔

نیوز 18 کو دیے ایک انٹرویو میں جسٹس چوہان نے کہا کہ لا کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے گا، کیونکہ کورٹ کے فیصلے میں یکساں سول کوڈ سے وابستہ کئی باتوں پر بھی تبصرہ کیا جائے گا ، جس پر عمل کرنا سب کے لئے ضروری ہو گا۔

تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر لا کمیشن کی نظریں مرکوز ، فیصلہ کے بعد تیار ہوگا یکساں سول کوڈ کا مسودہ

انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لئے عدالت کئی سوالات پوچھ رہی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ کورٹ کا اچھی طرح جائزہ لے رہا ہے۔ کورٹ مذہب کی ممکنہ وضاحت ، پرسنل لاء، مذہبی وابستگی اور مذہبی رواج کے درمیان فرق کے بارے میں بات کرے گا۔ خاص طور پر یہ کہ یہ رواج کیا ہے اور کس طرح ان کو پہچانا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ فیصلہ جولائی تک آ جائے گا ، کیونکہ چیف جسٹس اگست میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔

جسٹس چوہان نے کہا کہ بہت سے مسائل ہیں ، جن پر سپریم کورٹ کو وضاحت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو یہ جاننا ہوگا کہ پرسنل لاء کیا ہے۔ پرسنل لاء کی تشریح پہلے ہندو لاء کے طور پر کی گئی تھی۔ آپ آرٹیکل 25 دیکھیں تو پبلک آرڈر، صحت اور مورالٹي جیسے الفاظ لکھے گئے ہیں۔ اب اس آرٹیکل کو آرٹیکل 21 کے جوڑ کر پڑھنا ہوگا اور اسی لیے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے انتظار میں ہم خاموش بیٹھے ہیں۔

جسٹس چوہان سے یکساں سول کوڈ سے وابستہ ایک سوال پوچھا گیا کہ اگر کورٹ ٹرپل طلاق کو ختم کر کے طلاق حسن اور طلاق احسن کو تسلیم کرتا ہے ، تب کیا ہوگا؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ میں وراثت، جانشینی، جائیداد اور دیگر چیزوں سے وابستہ حقوق شامل ہیں ، شادی اور طلاق بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

جسٹس چوہان نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ تین طلاق محض ایک رسم ہے اور یہ مذہب کے لئے ضروری نہیں ہے ، تو یونیفارم سول کوڈ میں طلاق کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مانتے ہیں کہ تین طلاق اور طلاق کے دیگر دو طریقے غیر آئینی ہیں۔

اس موضوع پر اپنی ذاتی رائے ظاہر کرتے ہوئے جسٹس چوہان نے کہا کہ فوری طلاق کی اس رسم کو تبدیل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تعدد ازدواج مسلمانوں میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، کیونکہ ان میں یہ بہت کم ہوتا ہے۔ ان دنوں ایک بیوی کا خیال رکھ پانا مشکل ہے، دو کا کون رکھ پائے گا۔ مسئلہ فوری طلاق کا ہے اور کورٹ اس موضوع میں معلومات حاصل کررہا ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں نیوز 18 سے ایک انٹرویو میں جسٹس چوهان نے یکساں سول کوڈ سے وابستہ ایک سوال کے بارے میں بات کی تھی ، جسے کمیشن عام لوگوں کی رائے جاننے کے لئے سركلیٹ کرنے والا تھا، اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوپی سمیت کچھ دیگر انتخابات آ گئے تھے، ایسے میں ہم نے انتظار کرنے اور مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا، اب جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ، تو اس سے وابستہ کئی باتوں پر بحث ہو گی۔ اگر کورٹ صرف تین طلاق پر بات کرتا ہے ، تو بھی یہ دیگر مسائل پر تبصرہ کرے گا ، جو ہمارے لئے مددگار ثابت ہوگا۔

چوہان نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال نومبر میں لا کمیشن کا بائیکاٹ کا اعلان کرنے والے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی ان سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 13 اپریل کو 12 لوگوں کے ایک وفد نے لا کمیشن سے ملاقات کی تھی، وفد نے لا کمیشن کو بتایا تھا کہ پانچ کروڑ لوگوں نے اس بات پر دستخط کے ذریعے رضامندی ظاہر کی ہے کہ شریعت میں دخل اندازی نہیں ہونی چاہئے، انہوں نے دعوی کیا کہ دستخط کرنے والوں میں تقریبا دو کروڑ خواتین بھی شامل ہیں، جسٹس چوہان نے کہا کہ فی الحال وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی یہ دلیل قبول نہیں کر سکتے ، کیونکہ پہلے انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شریعت کیا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ سے چیزیں مزید واضح ہو جائیں گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز