لوگوں میں ڈر پیدا کرنے کیلئے تین طلاق کے خلاف قانون ضروری : اقلیتی کمیشن چیئرمین غیور الحسن رضوی

سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق کو غیر اسلامی قرار دئے جانے اور اس پر پابندی عائد کرنے کے بعد مودی حکومت جلد ہی تین طلاق کے خلاف قانون لاسکتی ہے۔

Dec 03, 2017 04:58 PM IST | Updated on: Dec 03, 2017 04:58 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق کو غیر اسلامی قرار دئے جانے اور اس پر پابندی عائد کرنے کے بعد مودی حکومت جلد ہی تین طلاق کے خلاف قانون لاسکتی ہے۔ مودی حکومت نے اس کیلئے قانون کا مسودہ بھی تیار کرلیا ہے ، جس کی مسلم تنظیمیں اور مذہبی شخصیات شدید تنقید کررہی ہیں۔ اسی درمیان اقلیتی کمیشن کا کہنا ہے کہ لوگوں میں ڈر پیدا کرنے کیلئے تین طلاق کے خلاف قانون ضروری ہے۔

اقلیتی کمیشن کے چیئرمین غیور الحسن رضوی کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود لوگ تین طلاق دینے سے باز نہیں آرہے ہیں اور اب ان میں ڈر پیدا کرنے کیلئے قانون کی ضرورت ہے۔ رضوی نے مزید کہا کہ عدالت عظمی نے تین طلاق کے خلاف بڑا فیصلہ دیا ، لیکن بہت سارے لوگ تین طلاق دینے سے باز نہیں آرہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جب لوگوں نے وہاٹس ایپ اور فون پر طلاق دیدیا ۔

لوگوں میں ڈر پیدا کرنے کیلئے تین طلاق کے خلاف قانون ضروری : اقلیتی کمیشن چیئرمین غیور الحسن رضوی

اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے مطابق لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا کرنے کیلئے تین طلاق کے خلاف قانون کی ضرورت ہے۔ قانون میں سزا کا بندوبست ہوگا تو لوگ ڈریں گے اور تین طلاق کو پوری طرح سے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ غیور الحسن رضوی نے مزید مسلم تنظیموں کی مخالفت کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جو پہلے سے تین طلاق کے حق میں کھڑے تھے وہ آج قانون بنائے جانے کی مخالفت کررہے ہیں ۔ مسلم سماج اور خاص طور پر خواتین کی بھلائی کیلئے قانون بنایا جارہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے تین طلاق پر پابندی سے متعلق بل کا مسودہ تیار کرلیا ہے اور اس کو سرمائی اجلاس میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔مسودہ کو حتمی شکل دینے کیلئے سبھی ریاستوں سے ان کا مشورہ طلب کیا گیاہے ۔ اس قانون کا نام مسلم وومین پروٹیکشن آف رائٹس لا دیا گیا ہے ۔مسودہ کے مطابق نئے بل میں تین طلاق کو غیر ضمانتی جرم قرار دیا گیا ہے اور قصور وار پائے جانے پر تین سال کی قید ہوگی ۔ علاوہ ازیں جرمانہ کا بھی بندوبست کیا گیا ہے ۔ مسوہ کی خاص بات یہ ہے کہ متاثرہ خاتون کو معاوضہ دینے کا بھی بندوبست ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز