تین طلاق کو ختم کرنے کے لئے مجوزہ بل شریعت میں مداخلت : ڈاکٹر نوہرہ شیخ

Nov 26, 2017 07:36 PM IST | Updated on: Nov 26, 2017 07:37 PM IST

نئی دہلی: آل انڈیا مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی کی صدر انسانی حقوق کارکن ڈاکٹر نوہر ہ شیخ نے مرکزی حکومت کے تین طلاق کو ختم کرنے کے لئے مجوزہ بل پیش کرنے کو شریعت میں مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ اس کی ہرسطح پر مخالفت کی جائے گی۔ محترمہ شیخ نے کہا کہ ایک مجلس میں تین طلاق غلط ہے اور اسلام میں اس کو منع کیا گیا ہے لیکن اسلام نے تین طلاق کا جو پاکیزہ طریقہ بتایا ہے اسے ختم نہیں کیا جاسکتا اور یہ شریعت میں صریحاً مداخلت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض صورت میں طلاق رحمت ہوتی ہے، بہت سے خواتین ظالم مردوں سے چھٹکارا پانا چاہتی ہیں یا کچھ مرد بیوی کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے اس مسئلہ کے حل کے لئے اسلام میں طلاق کا نظام ہے۔

انہوں نے کہاکہ دیکھا گیا ہے کہ طلاق کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کو جلانے، قتل کرنے اور اذیت دینے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اسلام نے مرد اور خواتین اس سے چھٹکارا دلانے کے لئے طلاق کا عمل رائج کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہند کا تین طلاق ختم کرنے پر مجوزہ پیش کرنے کا قدم نہ صرف شریعت کے خلاف ہے بلکہ آئین ہند کے بھی خلاف ہے جس میں تمام مذہبی اور شہریوں کو اپنے اپنے مذہب اور روایت پر عمل کرنے کی آزادی د ی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ تین طلاق ختم کرنا اور یکساں سول کوڈ لانا ہندوستان میں ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین کی خلاف ورزی کے خلاف ان کی پارٹی سڑکوں پراترے گی اور ہر سطح پراحتجاج کرے گی۔

تین طلاق کو ختم کرنے کے لئے مجوزہ بل شریعت میں مداخلت : ڈاکٹر نوہرہ شیخ

محترمہ ڈاکٹر نوہرہ شیخ جو ہیرا گروپ کی بانی اور چیف ایگزی کیوٹیوافسر بھی ہیں، نے تین طلاق کا خاتمہ خواتین کے ساتھ بھی انصافی ہوگی اور کسی بھی سطح پر خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو وہ ہر سطح پر احتجاج کریں گی۔انہوں نے طلاق کے وسیع استعمال کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح انتہائی کم ہے۔ساتھ انہوں نے اپنے سروے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 95 فیصد مرد اپنی بیوی سے پیار کرتے ہیں اور ان کی تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتے۔کچھ ہی مرد ہوتے ہیں جو اپنی بیویوں کی پروا نہیں کرتے۔

انہوں نے کہاکہ بعض مرتبہ مرد بیوی سے پیا ر توکرتا ہے لیکن کبھی غصہ کی حالت میں طلاق دے دیتا ہے ایسی صورت میں علماء کرام کو سرجوڑ پر بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو ایسے مردوں کو چھوڑ دینا چاہئے جو ان کی پرواہ نہ کرے اورنہ ان کا خیال اورا ان کی قدر کرے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف طلاق نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ طلاق کے بعد خواتین کا کیا ہوگا۔ وہ کیسے اور کس کے سہارے اپنی زندگی گزاریں گی اور بعض مرتبہ وہ کاموں میں پھنس میں جاتی ہیں جس سے مسلم معاشرہ بدنام ہوتا ہے ۔اس کے لئے حکومت کوبازآبادکاری فنڈ اور ہمارے علمائے کرام کو اس پر بھی غور و خوض کرنا چاہئے اور ایسا نظام تیار کرنا چاہئے جس سے اس طرح کے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز