اعظم گڑھ میں زہریلی شراب سے 18 لوگوں کی موت، انتظامیہ نے 12 کی تصدیق کی

Jul 10, 2017 10:35 AM IST | Updated on: Jul 10, 2017 10:35 AM IST

اعظم گڑھ ۔  اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہو گئی جبکہ ضلع انتظامیہ نے 12 افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔

ضلع مجسٹریٹ چندربھوش سنگھ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے کمار ساہنی نےکل رات یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ زہریلی شراب پینے سے اب تک ضلع میں 12 افراد کی موت ہوئی ہے۔ مرنے والوں میں سے 9افراد روناپار علاقے کے ہیں جبکہ تین افراد جین پور علاقے کے اعظم گڑھ بازار کے رہنے والے ہیں۔غیر سرکاری ذرائع نے مرنے والوں کی تعداد 18 بتائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 15 بیمار لوگوں کا علاج ضلع کلینک اور وارانسی کے بی ایچ یو اسپتال میں چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 لوگوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے ۔ مرنے والے لوگ انتہائی غریب تھے۔ انہیں مختلف اسکیموں کے تحت معاوضہ دیا جارہا ہے۔

اعظم گڑھ میں زہریلی شراب سے 18 لوگوں کی موت، انتظامیہ نے 12 کی تصدیق کی

موت کے بعد گاؤں میں مچا کہرام

ضلع مجسٹریٹ نے آبکاری محکمہ کو خبردار کیا کہ اگر اب کہیں بھی زہریلی شراب سے موت ہوئی تو افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ اس دوران پولیس اہلکار اجے کمار ساہنی نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع کے بعد موقع پر فوری طورپر سینئر حکام اور پولیس افسر پہنچ گئے تھے ۔ پولیس نے بیمار لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ میں ملوث اہم ملزم منا راج بھر باشندہ ککرسنڈاسمیت مختلف تھانہ علاقوں سے کل ملاکر 18 لوگوں کو پولیس نے اور تین کو آبکاری محکمہ نے گرفتار کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی 11 سو لیٹر غیر قانونی شراب، 10 ہزار لیٹر لہن اور شراب بنانے کی 20 بھٹیوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ضلع میں شراب کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے خلاف آبکاری اور پولیس کی مشترکہ کارروائی جاری ہے۔

خیال رہے کہ تین دن پہلے روناپار علاقے میں زہریلی شراب پینے سے پانچ افراد کی موت ہوئی تھی اور بڑی تعداد میں لوگ بیمار پڑ گئے تھے۔ان لوگوں نے کچی مقامی زہریلی شراب پی تھی۔ اس معاملہ میں اب تک پولیس اور آبکاری محکمہ کے نو ملازم معطل کئے جا چکے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز