یوپی میں مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کا نوٹس ، مولانا محمود مدنی نے شدید ردعمل کا اظہارکیا

Aug 10, 2017 07:07 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 07:07 PM IST

نئی د ہلی: اترپردیش میں آرٹی ای ایکٹ 2009کا حوالہ دے کر سرکاری محکمہ کی جانب سے دینی مدارس کو فوری طور سے بند کرنے کا نوٹس دیا جارہا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب چند مدارس کے ذمہ داروں نے جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی سے رابطہ کرکے تعاون کی گزار ش کی۔ یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند کے صد دفتر کو نوٹس کی چند کاپیاں موصول ہوئیں، جن کے مطابق یہ معاملہ بارہ بنکی ضلع کا ہے ، جہاں مدرسہ حفصہ للبنات نندورہ اور مدرسہ سراج العلوم کتوری کلاں کے ذمہ داروں کو بلاک ایجوکیشنل آفسرنے آرٹی ایکٹ باب4کی دفعہ 19-1کا حوالہ دے کر حکم دیا ہے کہ فوری طور سے اپنی درس گاہوں کو بند کریں اور اس کی اطلاع بلاک افسر سندیپ کمار ورما کو دیں ۔

نوٹس میں مذکورہ ایکٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر تسلیم شدہ ادارہ چلاتا ہے تواسے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہو گا ، اس کے علاوہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں دس ہزارروپے یومیہ جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے ۔ ان معاملات کے سامنے آنے کے بعد جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے سخت بے چینی کا اظہار کیا ہے ۔

یوپی میں مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کا نوٹس ، مولانا محمود مدنی نے شدید ردعمل کا اظہارکیا

مولانا مدنی نے کہا کہ آرٹی ایکٹ کی ترمیمی ہدایات 2012ء کے باوجود دینی مدارس کو یہ نوٹس جاری کیا جانا ملت اسلامیہ کو محض اضطراب میں ڈالنے کی سازش ہے ،جمعےۃ علماء ہند اسے کامیاب نہیں ہو نے دے گی ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جب2010 میں یہ ایکٹ نافذ العمل ہو ا تو مختلف طبقات کی جانب سے خدشات ظاہر کئے گئے تھے ، جمعیۃ علماء ہند نے اس سلسلے میں وزیر تعلیم کپل سبل سے ملاقات کی اور مدارس سے متعلق درپیش خدشات کو دور کرنے کی گزارش کی۔ نیز ہم نے 5اگست 2010 کو ا نڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں لازمی عصری تعلیم کا چیلنج کانفرنس منعقد کیا ، جس میں کپل سبل ، سلمان خورشید او رکے رحمن خاں شریک ہوئے ، جس کے بعد وزیر تعلیم کپل سبل نے ہمارے مطالبات کی روشنی میں باضابطہ ترمیم کرکے مدارس اور مذہبی تعلیمی اداروں کو مستثنی کردیا جوآرٹی ای امینڈمینٹ ایکٹ 2012 نام سے موجود ہے ،جس کی دفعہ 1 کی شق 5میں صاف لکھا ہے کہ اس قانون کی کوئی بات مدرسوں،ویدک پاٹھ شالاؤں اور بنیادی طور سے مذہبی تعلیم مہیا کرانے والے تعلیمی اداروں پر نافذ نہیں ہوگی ۔

مولانا مدنی نے صاف کیا کہ کوئی شخص یا ادارہ ملک کے قانون اور دستورسے بڑھ کر نہیں ہے ، اس لیے دینی اداروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا ۔ انھوں نے اتردیش کی سرکار کو متوجہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کرنے والے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کرے ۔مولانا مدنی نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں کو بھی متوجہ کیا کہ وہ کسی بھی نوٹس پر پریشان نہ ہوں اوراگر کہیں کوئی دشواری پیش آئے تو اپنے علاقے کی مقامی جمعےۃ یا راست طور سے جمعےۃ علماء ہند کے دفتر سے رابطہ کریں ، جمعےۃ علما ء ہند ہر طرح کا تعاون پیش کرے گی ۔ انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ آرٹی ای ایکٹ کی ترمیمی ہدایات 2012ء کی کاپی حاصل کرکے اپنے پاس ضرور رکھیں اور متعلقہ افسران سے اعتماد سے بات کریں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز