بی جے پی کیلئے خطرے کی گھنٹی،مہاراشٹر میں ایک ساتھ لڑیں گے کانگریس۔این سی پی

تین سال پہلے ایک دوسرے سے تعلق توڑنے والی کانگریس۔این سی پی کی دوریاں ختم ہوتی نظرآرہی ہیں۔پہلی مرتبہ دونوں جماعتوں کے درمیان لوک سبھا اور مہا راشٹر اسمبلی انتخابات مل کر لڑنے کے مسئلے پرمیٹنگ ہوئی۔اس میٹنگ میں کانگریس کی جانب سے مہاراشٹر کانگریس ریاستی صدر اشوک چوہان،نسیم خان،مہاراشٹر اسمبلی کے لیڈر اپوزیشن رادھا کرشناپاٹل شامل ہوئے۔وہیں این سی پی کی جانب سے شرد پوار بھتیجے اجیت پوار،جتیندر اوہد،این سی پی کے مہا راشٹر صدر سنیل تٹکرے سمیت کئی بڑے لیڈر موجود تھے،قریب دو گھنٹے تک چلی اس میٹنگ میں دونوں جماعتوں نے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیا اور ساتھ مل کر لڑنے کے فائدوں اور بی جے پی کو روکنے پربات چیت کی

Feb 06, 2018 11:49 PM IST | Updated on: Feb 06, 2018 11:49 PM IST

نئی دہلی۔تین سال پہلے ایک دوسرے سے تعلق توڑنے والی کانگریس۔این سی پی کی دوریاں ختم ہوتی نظرآرہی ہیں۔پہلی مرتبہ دونوں جماعتوں کے درمیان لوک سبھا اور مہا راشٹر اسمبلی انتخابات مل کر لڑنے کے مسئلے پرمیٹنگ ہوئی۔اس میٹنگ میں کانگریس کی جانب سے مہاراشٹر کانگریس ریاستی صدر اشوک چوہان،نسیم خان،مہاراشٹر اسمبلی کے لیڈر اپوزیشن رادھا کرشناپاٹل شامل ہوئے۔وہیں این سی پی کی جانب سے شرد پوار بھتیجے اجیت پوار،جتیندر اوہد،این سی پی کے مہا راشٹر صدر سنیل تٹکرے سمیت کئی بڑے لیڈر موجود تھے،قریب دو گھنٹے تک چلی اس میٹنگ میں دونوں جماعتوں نے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیا اور ساتھ مل کر لڑنے کے فائدوں اور بی جے پی کو روکنے پربات چیت کی۔

ختم ہوئے گلے شکوے

بی جے پی کیلئے خطرے کی گھنٹی،مہاراشٹر میں ایک ساتھ  لڑیں گے کانگریس۔این سی پی

مہاراشٹر کانگریس۔این سی پی کا اتحاد

کل تک ایک دوسرے پر طعنے کسنے والے این سی پی ۔کانگریس لیڈران کے درمیان میٹنگ میں نہ تو پہلے کی طرح تلخی تھی اور نہ ہی کوئی گلہ شکوہ۔ہنستے مسکراتے ہوئے دونوں جماعتوں کے لیڈروں نے ایک بات پر رضامندی ظاہر کی کہ جو ہوا اسے بھلا کر پھر ایک بار ساتھ۔ ساتھ آیا جائے اور مودی۔شاہ کی گھوڑا گاڑی کو مہاراشٹر میں روکا جائے۔اشوک چوہان نے کہا کہ اس اتحاد میں کوئی بھی بڑا یا چھوٹا نہیں ہے۔دونوں ہی پارٹی بھائی۔بھائی ہیں جتنے بھی مسائل در پیش تھے انہیں سلجھا لیا گیا ہے۔

سیکولر ووٹوں کا اشتراک روکنے کیلئے اتحاد ضروری

این سی پی اور کانگریس کے لیڈران نے مانا کہ دونوں کے الگ۔الگ لڑنے کا سیدھا فائدہ بی جے پی اور شو سینا کو ہوا ہے۔جوووٹر سیکولرزم کے مسئلے پر ان کے گٹھ بندھن کو ووٹ دیتے تھے وہ تقسیم ہو گئے۔اس مرتبہ پچھلی والی غلطی نہ ہو اس لئے دونوں جماعتوں کے مہاراشٹر کے لیڈروں نےاشارہ دے دیا ہے کہ اتحاد ہوگا۔کئی مسائل پر دونوں پارٹیوں کے لیڈران کے درمیاناتفاق ہو گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز