سہارنپور میں ہوئے نسلی تشدد کا اہم ملزم چندر شیکھرگرفتار، یوپی پولیس کو ملی کامیابی

Jun 08, 2017 01:19 PM IST | Updated on: Jun 08, 2017 01:19 PM IST

لکھنؤ۔ اترپردیش کے سہارن پور ضلع میں گزشتہ ماہ ہوئے نسلی تشدد کا اہم ملزم اور بھیم آرمی کا صدر چندرشیکھر آج ہماچل پردیش کے ڈلہوزی سے گرفتاری کرلیا گیا۔ ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (امن و قانون)آدتیہ ناتھ مشر نے ’’یواین آئی‘‘کو یہ اطلاع دی۔ مسٹر مشر نے بتایا کہ چندر شیکھر کو اسپیشل ٹاسک فورس(ایس ٹی ایف)کی ٹیم نے گرفتار کیا ہے۔اسے ڈلہوزی کی مقامی عدالت میں پیش کیا جائےگا۔وہاں سے ٹرانزٹ ریمانڈ لے کر سہارن پور لایا جائےگا۔ مسٹر مشر نے بتا یا کہ چندشیکھر ہریانہ ،پنجاب اور ہماچل پردیش میں مسلسل بھاگ رہا تھا۔ دودن پہلے اس کے پنجاب کے ہوشیارپور میں رہنے کی خبر ملی تھی۔اس نے آئندہ 18جون کو دہلی کے جنتر منتر پر پھرسے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ وہ لوگوں کو مسلسل بھڑکا رہا تھا۔ ایس ٹی ایف اس کے پیچھے پڑی ہوئی تھی۔ قریب 11بجے اس کے ڈلہوزی میں موجود ہونے کی اطلاع ملی اسے وہیں پکڑ لیا گیا۔ آج ہی اسے مقامی عدالت میں پیش کرکےٹرانزٹ ریمانڈ پر سہارن پور لایا جائےگا۔

اڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل (امن و قانون) نے بتایا کہ سہارن پور میں اس کی گرفتاری پر ممکنہ ردعمل کے پیش نظر دو کمپنی ریپڈ ایکشن فورس اور پی اے سی کی اضافی ٹکڑیاں بھیجی جا رہی ہیں۔آر اے ایف اور پی اے سی کی دوکمپنیاں پہلے بھی تعینات کی گی ہیں۔  سہارنپور کے شبیرپور گاؤں میں گزشتہ پانچ مئی کو مہارانا پرتاپ جینتی پر نکلی شوبھاياترا کے دوران ڈی جے بجانے کو لے کر راجپوتوں اور دلتوں میں لڑائی ہوگئی تھی۔ پتھراؤ میں 26 سالہ نوجوان سچن رانا کی موت ہو گئی تھی۔ واقعہ سے مشتعل لوگوں نے 54 گھروں میں آتش زنی اور توڑپھوڑ کی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں 17 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد شبيرپور میں ہی نو مئی کو دوبارہ راجپوتوں اور دلتوں میں لڑائی ہوگئی۔ جم کر پتھر چلے۔ کچھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ صورت حال کو سنبھالنے کے لئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے داخلہ سکریٹری منی پرساد مشرا، ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل (قانون) آدتیہ مشرا اور دو سینئر پولیس افسران کو سہارنپور بھیجا۔

سہارنپور میں ہوئے نسلی تشدد کا اہم ملزم چندر شیکھرگرفتار، یوپی پولیس کو ملی کامیابی

اسی درمیان، 23 مئی کو بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی سہارنپور پہنچ گئیں۔ ان کے واپس آتے ہی وہاں پھر سے لڑائی شروع ہو گئی۔ تلوار اور گولیاں چلیں۔ ایک دلت نوجوان کی موت ہو گئی۔ سہارنپور کے دلت راجپوت لڑائی کی وجہ سے ریاستی حکومت کی بھی کافی کرکری ہوئی۔ حکومت نے سہارنپور کے ضلع مجسٹریٹ اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا تھا۔ محترمہ مایاوتی کے بعد کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے بھی شبيرپور جانے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے انہیں ہریانہ اتر پردیش سرحد پر ہی روک لیا۔ انہیں سہارنپور ضلع میں ہی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم، وہ چاہتے تھے کہ اگر انہیں شبيرپور نہیں جانے دیا جا رہا ہے تو شہر میں واقع ضلع اسپتال میں داخل لوگوں سے ہی ملاقات کرنے دیا جائے۔

تینوں لڑائیوں میں دو نوجوانوں کی موت ہوئی اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس نے قریب چالیس افراد کو گرفتار کیا۔ان لڑائیوں کے لئے بھیم آرمی کے صدر چندر شیکھر عرف راون کو پولیس بنیادی طورپر ذمہ دار قرار دیتی ہے۔اس کی گرفتاری کے بعد پولیس نے اس وقت راحت کی سانس لی ہے اور شبيرپور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں احتیاطاً سیکورٹی کے وسیع انتظامات کئے گئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز