میجر گگوئی نے گاڑی سے فاروق احمد ڈار کو باندھنے کے اپنے اقدام کا دفاع کیا

May 24, 2017 09:30 AM IST | Updated on: May 24, 2017 09:30 AM IST

نئی دہلی۔  پتھربازی کرنے والوں سے بچنے کے لئے ایک شخص کو حفاظتی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لئے فوج کی گاڑی سے باندھنے کے بعد تنازعات میں آئے میجر ليتل گگوئی نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا اور بغیر گولی چلائے متعدد زندگیاں بچا لیں۔ میجر گگوئی نے ایک نیوز چینل سے کہا، 'میں ڈرتا نہیں ہوں۔ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ یہ میرے، میری تنظیم اور میرے ملک کے لئے غلط نہیں تھا۔ میں نے اپنی اور متعدد شہریوں کی زندگی بچا لی۔ اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ میرے حساب سے میں نے کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کی۔ 'میجر نے کہا 'ہم یہاں لوگوں کی مدد کے لیے ہیں۔ فوج یہاں ان لوگوں سے عام لوگوں کی حفاظت کے لئے ہے جو مسلح ہیں اور ملک کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ میرا اپنے تمام جوانوں کو یہ پیغام ہے کہ اگر آپ کا ارادہ نیک ہے تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ ایسے بحران کے وقت میں ہمارے سینئر آپ کے ساتھ ہیں۔ مثبت رہیے اور محنت کیجئے۔ چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی۔ '

میجر گگوئی نے کہا جب ایک شخص کو باندھنے والی ویڈیو وائرل هونے پر تنازعہ کھڑا ہوا تو یہ ان کے لئے مشکل وقت تھا۔ اگرچہ یہ پہلے سے سوچا سمجھا فیصلہ نہیں تھا۔ ' اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے انهوں نے کہا، 'انہیں یہ بات سمجھنی چاہئے اگر میں فائرنگ کرتا تو کیا ہوتا۔ 'انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کے تبصرے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہو سکتا ہو انہوں نے توہین محسوس کی ہو، لیکن اگر وہ یا کوئی اور میرے مقام پر ہوتا تو کیا کرتا۔ سرینگر لوک سبھا سیٹ کے ضمنی انتخاب کے دوران 9 اپریل کو فاروق احمد ڈار نامی شخص کو گاڑی کے بونٹ سے باندھنے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد میجر گگوئی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کی چہار طرفقہ تنقید ہونے کے بعد فوج نے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

میجر گگوئی نے گاڑی سے فاروق احمد ڈار کو باندھنے کے اپنے اقدام کا دفاع کیا

میجر گگوئی کو گزشتہ روز فوج کے سربراہ کی جانب سے’چیف آف آرمی اسٹاف کے کمنڈیشن کارڈ‘سے نوازا گیا تھا۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی مخالف مہم کی روک تھام میں مسلسل کوشش کرنے کے لئے انہیں یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز