روہتک میں اروند کیجریوال کے بعد جھارکھنڈ میں رگھوورداس پر جوتوں کی بارش

Jan 01, 2017 07:27 PM IST | Updated on: Jan 01, 2017 09:07 PM IST

نئی دہلی : ہریانہ کے روہتک میں عام آدمی پارٹی کی ریلی میں اروند کیجریوال پر جوتا پھینکے جانے کے بعد جھارکھنڈ میں وہاں کے وزیر اعلی پر بھی ایک پروگرام سے لوٹنے کے دوران جوتوں کی بارش کردی گئی۔ رگھوداس کی طرف کئی جوتے پھینکے گئے ، مگر انہیں کوئی نہیں لگا۔ داس کو کالا جھنڈا بھی دکھایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق روہت میں کیجریوال نے جیسے ہی اسٹیج سے بولنا شروع کیا ، تبھی وہاں موجود نوجوان نے جوتا پھینک دیا۔کیجریوال حامیوں نے اس نوجوان کو وہیں پکڑ لیا اور پٹائی کر دی۔ کیجریوال پر جوتا پھینکنے والے شخص کا نام وکاس ہے ، جس نے جوتا پھینک کر ایس وائی ایل کے پانی کو لے کر اپنا احتجاج درج کرانے کی کوشش کی ۔ وہ چرکھی دادری کے موڈي گاؤں کا رہنے والا ہے۔

اس واقعہ کے بعد کیجریوال نے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ میں نے کہا تھا مودی جی بزدل ہیں۔ آج اپنے چمچے سے جوتا پھینکوايا۔ مودی جی ہم بھی یہ کر سکتے ہیں ، مگر ہماری تہذیب ہمیں اجازت نہیں دیتی۔ آپ خواہ جوتا پھینکواو یا سی بی آئی ریڈ کراؤ، نوٹ بندی گھوٹالے اور سہارا برلا رشوت خوری کا سچ میں بتاتا رہوں گا۔

خیال رہے کہ عام آدمی پارٹی کی اس ریلی کا انعقاد روہتک کے سیکٹر 6 میں کیا گیا تھا ۔ کیجریوال نے اس ریلی کا نام تجوری توڑبھنڈا پھوڑ دیا تھا۔ ریلی میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا سمیت دہلی کے کئی وزرا اور ممبر ان اسمبلی پہنچے ہیں۔ اس دوران کیجریوال نے وزیر اعظم مودی پرر جم کر نشانہ سادھا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی بیان باز ہیں اور عام آدمی پارٹی کی ہر ریلی پر بی جے پی کیس درج کروا دیتی ہے۔

ادھر جھارکھنڈ کے كھرساوا میں ایک پروگرام کے دوران ریاست کے وزیر اعلی رگھوورداس پر جوتے پھینکے گئے اور ان کو سیاہ پرچم دکھایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو شہید پارک میں ہزاروں قبائلی پولیس فائرنگ میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے تھے۔وزیر اعلی رگھوور داس نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور پولیس فائرنگ میں مارے گئے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد داس جب جانے لگے، تب لوگوں نے ان پر جوتوں کی بارش کر دی۔ بہت سے جوتے ان کی طرف اچھالے گئے لیکن ان میں سے کوئی انہیں نہیں لگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز