اب منیش تیواری نے کہا : کانگریس کو اسٹریٹیجی میں تبدیلی لانے اور نئی سوچ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت

Aug 25, 2017 08:10 PM IST | Updated on: Aug 25, 2017 08:10 PM IST

نئی دہلی: مسٹر جے رام رمیش کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے پارٹی کے کام کاج کے طریقوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اسٹریٹیجی میں تبدیلی کرنے اور نئی سوچ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر تیواری نے یو این آئی کے ہیڈ کوارٹر میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ 2009 میں 206 سیٹ جیتنے والی کانگریس کا 2014 میں 44 سیٹوں پر سمٹ جانا یقینی طورپر تشویش کا موجب ہے۔ نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے بالخصوص 2019 کے عام انتخابات میں جانے کے لئے پارٹی کو اپنے طور طریقے ‘ سوچ اور اسٹریٹجی میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ اسے اہم امور پر عوام کے سامنے اپنی بات نئے اور موثر ڈھنگ سے رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مینجمنٹ کی کمزوری کی وجہ سے کانگریس کو اس سال کے ابتدا میں ہوئے پانچ ریاستوں میں دو ریاستوں گوا او رمنی پور میں کامیابی کے باوجود حکومت بنانے سے محروم ہونا پڑا۔ یہ الیکشن نتائج 3-2 سے کانگریس کے حق میں ہونے کے باوجود بی جے پی 4-1 میں اپنے حق میں کرنے میں کامیاب رہی اور ہم صرف پنجاب میں حکومت بناسکے۔ اس سے پارٹی کے کارکنوں کے حوصلہ پر بہت برا اثر پڑا۔ خیال رہے کہ گوا اور منی پور میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی۔وہ حکومت بنانے کی کوشش شروع کرتی اس سے پہلے ہی بی جے پی نے چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر دونوں ریاستوں میں اقتدارپر قبضہ کرلیا تھا۔

اب منیش تیواری نے کہا : کانگریس کو اسٹریٹیجی میں تبدیلی لانے اور نئی سوچ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت

پارٹی کے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعہ کچھ دنوں پہلے کانگریس کے کام کاج کے معاملے پر کئے گئے تبصرہ کی طرف توجہ دلائے جانے پر مسٹر تیواری نے کہا کہ وہ ان سے پوری طرح متفق تو نہیں ہیں لیکن ان کی باتوں کو منفی قرار دے کر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خیا ل رہے کہ مسٹر رمیش نے کہا تھا کہ کانگریس وجود کے بحران سے گذر رہی ہے او رسب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسٹر نریندرمودی او رمسٹر امت شاہ کی قیادت والی بی جے پی سے عام طریقے سے مقابلہ نہیں کیا جاسکے گا اور اس کے لئے نئے ڈھنگ سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے پارٹی کے کام کاج کے سلسلے میں بھی کہا تھا کہ سلطنت چلی گئی ہے لیکن ہمار ا رویہ اب بھی سلطان جیسا ہی ہے۔

مسٹر تیواری نے کہا کہ ان کا مانناہے کہ پارٹی کو اپنا لائحہ عمل اور سوچ بدلنی چاہئے او راہم امور پر اپنی بات نئے ڈھنگ سے رکھنے او رکارکنوں میں نیا جوش بھر کر پارٹی کو نئے سرے سے کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قوم پرستی کی ترقی پسند تعریف طے کرکے اسے عوام کے درمیان پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں لوگوں کو سمجھانا ہوگا کہ ملک کی معیشت میں سب کا تعاون ہے اور یہ سب کے لئے ہے نہ کہ صرف چند سرمایہ داروں کے لئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پارٹی میں اس طرح کی جارحیت اور کلر انسٹنکٹ نہیں ہے جو ایک اپوزیشن پارٹی میں ہونی چاہئے۔ اس کے پیچھے بڑی وجہ ہے کہ کانگریس طویل مدت اقتدار میں رہی اور وہ ویسا جارحانہ رویہ نہیں دکھا پاتی ہے جو اپوزیشن جماعتیں دکھاتی ہیں۔ کئی مرتبہ تو ہمارے لیڈر حکومت کے فیصلوں کی نکتہ چینی کرنے کے بجائے ان کے درست ہونے کی دلیل تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے قائدانہ صلاحیت پر اٹھنے والے سوالات پر کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں کہ پارٹی کے لوگوں کا ان پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کاا میج خراب کرنے کے لئے جو پروپیگنڈہ ہوتارہاہے پارٹی اس کا مناسب طور پر جواب نہیں دے پائی ۔ اس سوال پر کہ کیا 2019 میں مسٹر گاندھی پارٹی کو الیکشن میں کامیابی دلاسکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ 2004 کے لوک سبھا الیکشن کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے قد کے آگے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو کم سمجھا جارہا تھا کیوں کہ وہ سیاست میں نئی تھیں لیکن جو انتخابی نتائج آئے وہ سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے لئے جاری کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب تو دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی محترمہ گاندھی اور راہل گاندھی میں یقین کا اظہار کررہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز