حکومت کے خلاف بولنے والوں کے لئے یہ وقت بہت برا: منیش تیواری

Sep 09, 2017 06:23 PM IST | Updated on: Sep 09, 2017 06:23 PM IST

نئی دہلی۔  کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے آج کہا کہ حکومت کے خلاف سخت موقف رکھنے والی صحافیہ گؤری لنکیش کے قتل سے اب یہ لگنے لگا ہے کہ حکومت کے خلاف بولنے والوں کے لئے یہ وقت بہت برا ہے۔ مسٹر منیش تیواری نے اپنے بلاگ میں کہا کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے لئے آنے والا وقت اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 ء میں گوا میں منعقدہ فلم فیسٹیول میں انہوں نے ادیبوں اور قلمکاروں کو اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی وارننگ دی تھی اور آج پھر اسے دہرا رہے ہیں کہ اقتدار کے لوگوں کی نکتہ چینی کرنے والے لوگوں کے لئے آنے والا وقت خاص طور پر اگلے 20 ماہ کا وقت اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ" وزیر اعظم سوشل میڈیا پر اگر گوری کے قتل پر جشن منانے والے لوگوں کو فالو کرتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ صرف ان کی حمایت ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہیں تحفظ بھی دے رہے ہیں۔ ملک میں جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، اس سے صاف نشانیاں مل رہی ہیں کہ اگلے 20 ماہ میں آزاد خیالات کے لوگوں کو مزید ناخوشگوار حالات سے گزرنا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس دوران متعدد دوسرے گؤری لنکیش بھی دیکھنے کو ملیں۔

مسٹر منیش تیواری نے کہا کہ سیاستدانوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی زندگی ہمیشہ خطرے سے بھری ہوتی ہے لیکن گزشتہ تین سالوں میں ملک کے اندر ایسا ماحول تیار کیا گيا ہے کہ جو لوگ بھی اقتدار کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں انہیں مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے اور وہ تعصب و بد تہذیبی کے شکار ہو رہے ہیں۔ اب صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اور لوگوں کو اب گوری لنکیش کی طرح سزا بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات تھی کہ آزادی کے بعد ملک میں نہرو واد آیا اور لبرل اور روادار معاشرے کی بنیاد رکھی گئی۔ خوش قسمتی سے گزشتہ سات دہائیوں میں ان خیالات کی حامی حکومتیں اکثراوقات اقتدار میں ر ہیں لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ رنگارنگی اور اعتدال پسند ی کے خیالات سے انکار کیا جا رہا ہے۔ اس معاشرے کے لئے بدقسمتی یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) میڈیا کے ذریعہ ہمارے بنیادی اصولوں کی نئی تعریف وضع کرنے میں مصروف ہے۔ ہم آہنگی اور رنگا رنگی کو ترک کرکے ایک ماحول تیار کیا جا رہا ہے جس میں صرف ایک ہی مذہب، ایک ٹیکس کا نظام اور ایک ہی آواز کی گنجائش ہے۔

حکومت کے خلاف بولنے والوں کے لئے یہ وقت بہت برا: منیش تیواری

سینئر کانگریس لیڈر اور پارٹی ترجمان منیش تیواری: فائل فوٹو۔

مسٹر تیواری نے کہا کہ گوری علاقائی زبان میں اپنی بات کہتی تھیں اور انہیں بھی دوسروں کی طرح یہی یقین تھا کہ ہمارے ملک کے لوگ آئین اور اس کے اقدار پر یقین رکھتے ہیں، اس لئے سب کو اپنی بات کرنے کی آزادی ہے لیکن ان کا یہ یقین غلط ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سیاست اور صحافت لازم و ملزوم بن گئي ہے۔ جعلی خبروں کو پھیلانے اور حقائق کو سیاسی مفادات میں توڑ مروڑ کر پیش کرنا معمول بن گیا ہے۔ سیاست کو کچھ لالچی اور بد طینت لوگوں نے آلودہ کر دیا ہے اور ایسے لوگ صحافت کو بھی آلودہ کر رہے ہیں۔ لیکن اعتماد کی بات یہ ہے کہ اچھے، پابند عہد اور بہادر سیاستدانوں کی طرح صحافت میں بھی بہادر اور پرعزم لوگ موجود ہیں، جو مودی اور ٹرمپ راج میں بھی سچ بولنے کی جرات رکھتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز