منان بشیر وانی کے والد بولے ۔ " افضل کی پھانسی کے بعد بھٹک گیا تھا بیٹا

ان کا کہنا ہے کہ افضل گرو کو پھانسی ہونے کے بعد اس کی شروعات ہوئی۔ بشیر نے کہا ، " سال 2013 میں جب افضل کو پھانسی ہوئی تب منان علی گڑھ میں تھا، تبھی اس کا من بدلا '۔

Oct 12, 2018 08:32 PM IST | Updated on: Oct 13, 2018 05:15 AM IST

جموں اور کشمیر میں واقع لولاب مقامی منان بشیر وانی کو سکیورٹی فورسز سے ہوئے ایک انکاؤنٹر میں مار گرایا گیا۔ یوپی میں واقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اسکالر وانی کی آخری رسوم میں سری نگر سے 130 کلومیٹر دوری پر واقع اس گاؤں میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔

وانی کی موت کے بعد اس کے اہل خانہ غمزدہ ہیں ۔ وانی کے والد 57 سالہ بشیر احمد وانی نے کہا ، ' چڑیا چگ گئی تو اب کیا پچھتائے!" بیٹے کی موت سے وہ پریشان ہیں۔ پیشے سے سرکاری ٹیچر نے بھرائی آواز میں پوچھا ۔ 'اس نے بندوق کیوں اٹھائی؟ ہم اس اور کیون نہیں دیکھتے؟ ' ان کا ماننا ہے کہ بیٹے کی یہ حالت نہ ہوتی اگر لیڈر کشمیر کے مسئلے کا حل کرنے میں ایماندار رہے ہوتے۔

منان بشیر وانی کے والد بولے ۔

منان بشیر کے والد ۔ نیوز 18

بشیر نےبڑے اداس اور بھرائے لہجے میں پوچھا  ، " ہمارے بچے ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا ہمیں صرف قبرستان بھرنا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ افضل گرو کو پھانسی ہونے کے بعد اس کی شروعات ہوئی۔ بشیر نے کہا ، " سال 2013 میں جب افضل کو پھانسی ہوئی تب منان علی گڑھ میں تھا، تبھی اس کا من بدلا '۔

نیوز 18 سے فون پر بات کرتے ہوئے بشیر کافی غصے میں تھے۔ جواہر نوودایے یونیورسٹی سے شرعاتی پڑھائی کرنے ولاے منان کے بارے میں اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ پڑھنے میں کافی اچھا تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اسکول کی دیرگر چیزوں میں بھی وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔

منان کے والد نے کہا کہ میں اسے شاہ فیصل کی مثال دیا کرتا تھا۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ سول سیوا کا امتحان دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اپنی پڑھائی کا اچھا استعمال کرے لیکن انہوں نے ریاست اور حالات کو قصور وار بتایا ہے۔

اہم جانکاری : ہندستان کے ٹاپ سائبر افسر کا دعوی: ہم نے کر لیا سارا انتظام ، بند نہیں ہوگا انٹرنیٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز