منوہر پاریکر نے کہا : دہشت گردی کانگریس کی دی ہوئی بیماری ، اب صحیح علاج کیا جارہا ہے

دہشت گردی سے گزشتہ 20-25 سال میں غلط طریقہ سے نمٹنے کی وجہ سے یہ بیماری بڑھی ہے۔ اب اس کی صحیح دوا کی جارہی ہے۔

Feb 22, 2017 12:31 PM IST | Updated on: Feb 22, 2017 12:31 PM IST

نئی دہلی : دہشت گردی آج ملک کے سامنے بہت بڑچیلنج ہے۔ روزانہ جوانوں کے شہید ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں جب وزیر دفاع منوہر پاریکر سے سوال کیا گیا ، تو نیوز 18 انڈیا سے خاص بات چیت میں انہوں نے کہا کہ یہ کانگریس کی دی ہوئی بیماری ہے۔ دہشت گردی سے گزشتہ 20-25 سال میں غلط طریقہ سے نمٹنے کی وجہ سے یہ بیماری بڑھی ہے۔ اب اس کی صحیح دوا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی ضرورت کی سنجیدگی کے ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف سختی بھی ضروری ہے۔

سوال : کیا گوا میں منوہر پاریکر کے بغیر بی جے پی کی سرکاری بنے گی ؟

منوہر پاریکر نے کہا : دہشت گردی کانگریس کی دی ہوئی بیماری ، اب صحیح علاج کیا جارہا ہے

جواب : حکومت ایک بار پھر واپس آئے گی ۔ حکومت کی واپسی کے لئے ووٹنگ ہو گئی ہے۔ اچھا مینڈیٹ دیا گیا ہے ، ایسا لگتا ہے۔ گوا چھوٹی ریاست ہے ، اس وجہ سے صحیح نمبر بولنا مشکل ہے، لیکن مثبت لگتا ہے، پچھلی مرتبہ سے زیادہ مینڈیٹ کے ساتھ بی جے پی واپس آ جائیں گے۔

سوال : لیکن آپ کہتے رہے ہیں کہ دہلی کا کھانا ٹھیک نہیں ہے ، آپ کو گوا کا کھانا پسند ہے، تو آپ گوا سے باورچی دہلی لائیں گے ، یا گوا جائیں گے ..؟

Loading...

جواب : یہ تو 11 تاریخ کے بعد ہی طے ہوگا۔

سوال : پارلیمنٹ میں آپ یوپی کے ممبر پارلیمنٹ ہیں، مگر وہاں تشہیر کرنے نہیں گئے کیوں؟ آپ کی پارٹی پر اپوزیشن الزام لگا رہا ہے کہ فوج اور اس کے آپریشن پر سیاست کی جا رہی ہے۔ کیا کہیں گے؟

جواب : پارٹی نے الیکشن میں سیاست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر دفاع کو وہاں ریلی کیلئے نہیں بھیجا گیا، ورنہ میرا تو حق بنتا تھا ، وہاں سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں بولنے کا۔ پارٹی اس معاملہ کو لے سنجیدہ ہے ... فوج کا معاملہ ہے ... ڈیفنس کا معاملہ ہے ... ملک کی سیکورٹی کا معاملہ ہے۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ ہم فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹ سکتے۔

ویسے میں کہوں گا کہ بنگلہ دیش فتح کے بعد کیا کانگریس نے اس کے بارے میں نہیں بولا۔ فتح کا کریڈٹ فوج کو ہی جاتا ہے ، لیکن فیصلہ لینے کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے۔

ڈھائی برس میں کئی بڑے فیصلے لئے گئے ۔ جس کا سہرا حکومت کو ہی جائے گا ، جس میں نوٹ بندی جیسا بڑا فیصلہ بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اس دوران ایک بھی داغ نہیں لگا۔

سوال : دہشت گردی پر آپ کیا کہیں گے؟

جواب : تمام کانگریس کی دین ہے۔ بیماری کے بڑھنے اور پھیلنے کے بعد علاج کریں ، تو کافی احتیاط سے علاج کرنا پڑتا ہے، کیونکہ کئی بار دوا کا بھی اثر ہو جاتا ہے۔ 20-25 برس سے جو دہشت گردی ہے ... ٹیررزم ہے ، وہ غلط طریقے سے نمٹنے کا نتیجہ ہے۔

کئی مرتہب دوا دینے سے بھی بخار بڑھ جاتا ہے، میں اتنا کہوں گا کہ جہاں ایک طرف لوگوں کی ضروریات کے تئیں حساس ہونا چاہئے ، وہیں دہشت گردی کے خلاف سختی سے نمٹنے کی بھی ضرورت ہے۔

سوال : آپ کا کہنا ہے آرمی چیف کے بیان اور سنگ باری کے چیلنج پر ...

جواب : جو کہنا تھا وہ کہا جا چکا۔ اب میں اس بابت کچھ نہیں کہنا چاہتا، لیکن ہمارا کام حفاظت کرنا ہے اور ہم وہ کریں گے۔

سوال : پٹھان کوٹ حملے کے ایک سال کے بعد ہندوستان کے فوجی بیس کتنا محفوظ ہیں ؟

جواب : ہم نے کافی اصلاح کئے ہیں۔ ہم کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ فوجی اڈوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ ہم مزید اصلاح کر رہے ہیں ، لیکن سیکورٹی مائنڈ سیٹ کا بھی معاملہ ہے۔ نرمی برتی ، تو اس کا جھٹکا جھیلنا پڑتا ہے۔ ہم نے مائنڈ سیٹ کو بھی بدلا ہے، میں مطمئن ہوں کہ اس معاملہ میں صحیح سمت میں کام چل رہا ہے۔

سوال : حافظ سعید کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے ... کیا پاکستان کو عقل آ گئی ؟

جواب : چند قدم اٹھائے ہیں تو کچھ امید جاگی ہے۔ بہتر ہو گا اس صورت میں آپ سوال وزیر خارجہ سے پوچھیں۔ میں صرف دیکھ رہا ہوں۔ توقع کریں کہ صحیح سمت میں کارروائی آگے بڑھے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز