فضائیہ کے سابق سربراہ و جانباز افسر کو نم آنکھوں سے دی گئی آخری سلامی

Sep 18, 2017 11:08 AM IST | Updated on: Sep 18, 2017 02:46 PM IST

نئی دہلی۔ 1965 کی جنگ میں پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے ہندوستانی فضائیہ کے جانباز 'مارشل آف دی ایئر فورس' ارجن سنگھ کی جسد خاکی کو آج پورے فوجی اعزاز کےساتھ آخری سلامی دی گئی۔ دہلی چھاؤنی کے برار اسكوائر واقع شمشان میں 21 توپوں کی سلامی اور فوجی بینڈ کی دھن کے درمیان سکھ روایات کے مطابق ان کی آخری رسوم کی ادائیگی کی گئی۔98سالہ ’مارشل آف دی ایئر فورس‘ آنجہانی سنگھ کو ہفتہ کے روز دل کا دورہ پڑنے پر آرمی کے ریسرچ اینڈ ریفرل ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ہفتہ کی دیر شام ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

ان کی پیدائش 15 اپریل 1 919 میں پنجاب کے لائل پور جو اب پاکستان کے فیصل آباد میں آتا ہے ، میں برطانوی ہندوستان کے ایک باوقار خاندان میں ہوئی تھی ۔ ان کے والد اور نانا بھی فوجی افسر تھے۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی، وزیر دفاع نرملا سیتا رمن، مرکزی وزیر ہردیپ پوری، سکریٹری دفاع سنجے مترا، ایئر چیف مارشل بی ایس دھنوا، فوج کے سربراہ جنرل وپن راوت، بحریہ سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا سمیت کئی چیدہ شخصیات اور تینوں افواج کے اعلی حکام اور ریٹائرڈ افسران نے انہیں خراج عقیدت پیش کئے۔

فضائیہ کے سابق سربراہ و جانباز افسر کو نم آنکھوں سے دی گئی آخری سلامی

اس سے قبل ،صدر رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی نےان کی رہائش گاہ پر جاکر ان کے جسد خاکی پر گلہائے عقیدت پیش کیا تھا۔ صدر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ نسل درنسل ملک کے لئے فضائی فوج میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے ایئر چیف مارشل

ارجن سنگھ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ جاوید رہیں گے۔ وزیر اعظم مسٹر مودی نے تعزیتی ڈائری میں اپنے احساسات بھی قلمبند کئے۔ تقریب ساڑھے آٹھ بجے ان کے سیون اے کیٹلس مارگ واقع رہائش گاہ سے شاندار فوجی قافلے میں توپ گاڑي ترنگے میں لپیٹ کر ان کی جسد خاکی کو لے کر برار اسكوئر پہنچی جہاں تینوں افواج کی مشترکہ ٹکڑی نے انہیں آخری سلامی پیش کی۔ فوج کی 21 توپوں کی سلامی کے بعد فضائیہ کے تین ایم آئی -17 ہیلی کاپٹروں اور فضائیہ کے جیگوار جنگی طیاروں نے بھی آسمان میں پرواز بھرتے ہوئے اپنے سب سے بڑے ہیرو کو سلامی دی۔ Arjan-Singh-1

ائیر فورس مارشل ارجن سنگھ 1965 کے ہند۔پاک جنگ کے دوران انڈین ایئر فورس کے چیف تھے۔ اس جنگ میں ان کی قیادت میں آئی اے ایف کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کی فضائی طاقت بری طرح پسپا ہوگئی اور اس جنگ میں ہندوستان نے بڑی

کامیابی حاصل کی۔ وہ اس اعلی عہدے پر 1964 سے 1969 تک فائزرہے۔ ایئر مارشل ارجن سنگھ کو سب سے پہلا ایئر چیف مارشل ہونے کا سب سے بڑااعزاز بھی حاصل ہوا۔انہیں 1965 کی ہند۔پاک جنگ کے بعد پدم ویبھوشن سے سرفراز کیا گیا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد آنجہانی سنگھ سوئٹزرلینڈ اور کینیا میں ہندوستان کے سفیر بھی رہے۔ سال 1989-90 میں دلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ وہ واحد ایئر فورس آفیسر تھے جنہیں 'فائیواسٹار رینک'سے نوازا گیا تھا۔

وہ سب سے کم عمر میں ایئر فورس کے سربراہ بنے۔ انہوں نے 44 سال کی عمر میں ہندوستانی ایئر فورس کی قیادت کرنے کی بڑی ذمہ داری قبول کی۔ مختلف طرح کے 60 سے بھی زیادہ ہوائی جہاز اڑانے والے مارشل ارجن سنگھ نے ہندوستانی فضائیہ کودنیا کی سب سے طاقتور اور دنیا کی چوتھی سب سے بڑی ایئر فورس بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز