مسلمان آخر امریکہ سے قدس اور یروشلم سے متعلق کس بات کی امید رکھتے ہیں ؟ مولانا محمد رحمانی مدنی

Dec 08, 2017 09:12 PM IST | Updated on: Dec 08, 2017 09:12 PM IST

نئی دہلی: سورۂ توبہ میں رب کائنات کا فرمان ہے کہ مساجد کو آباد کرنے والے اللہ پر ایمان میں پختہ ہوتے ہیں اور اس پر ایمان کا حق ادا کرتے ہیں، ان کا ایمان آخرت پر بھی پختہ ہوتا ہے، وہ لوگ باجماعت صلوات خمسہ کی پابندی کرتے ہیں، زکاۃ کی ادائیگی کا بھی ان کے دلوں میں احساس ہوتا ہے اور وہ لوگ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔اللہ تعالی نے ان صفات کے حاملین کو مساجد کی آبادی سے جوڑا ہے اور اخیر میں فرمایا کہ عنقریب یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوںمیں سے ہوں گے۔اسی طرح اللہ رب العالمین نے سورۂ نور میں ارشاد فرمایا کہ جن گھروں کو اللہ تعالی نے بلند کرنے اور ان میں ذکر الہی اور اپنے نام کو بلند کرنے کا حکم دیا ہے ان میں دن ورات اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، ان گھروں سے ایسے لوگ جڑے ہوتے ہیں جنہیں دنیاوی اشغال، تجارت وغیرہ اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دلوں اور نگاہوں کو الٹ پلٹ کردیا جائے گا اور یہ لوگ اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہیں۔ گویا ان کا مشغلہ مساجد کو آباد کرنے کا ہوتا ہے، یہ مسجدوںکو ویران نہیں ہونے دیتے کہ جوچاہے مسجدوںپر غلط نگاہ ڈالنے میں کامیاب ہوجائے۔جب کہ جو لوگ اللہ کو اپنا ولی نہیں بناتے بلکہ غیراللہ کو ولی بناتے ہیں ان کی مثال سورۂ عنکبوت کے مطابق مکڑی کے جالے کی طرح بنائے گئے مکان کی ہے جو نہایت کمزور ہوتا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ آج یروشلم سے متعلق امریکہ کا جو فیصلہ آیا ہے یا بابری مسجد پر جو سیاست کھیلی جارہی ہے اور شاہجہانی مسجددہلی پر جو بیان بازی ہورہی ہے یہ سب کا سب مکڑی کے جالے سے زیا دہ کچھ نہیں، اگر مسلمان اللہ تعالی سے لو لگالیں تو اللہ کی تدابیر ان سب کے مکروفریب پر بھاری ہے اور یہ اپنی سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوگے۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق،جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانایروشلم پر امریکی فیصلہ، بابری مسجد کی مسماری اور جامع مسجد دہلی پر آئے بیان کے تناظر میں مسلمانوں کے مساجد سے تعلق پر مدلل گفتگو فرمارہے تھے۔مولانا نے کہا کہ ۱۹۴۸ء میں جس امریکہ نے اسرائیلی حکومت کو روس کے ساتھ صرف ۱۳ منٹ میں منظوری دے دی تھی آج ہم اس امریکہ سے اتنی توقع لگائے کیوں بیٹھے ہیں، دراصل یہ لوگ شدت پسندوں اور شروفساد پھیلانے والوں ہی کے معاون ہیں، انہیں مسجد اقصی کی تاریخ سے متعلق مسیحی ظلم وجور اور قتل وخونریزی اور اسرائیلی ویہودی دور میں ہوئے مظالم اور انسانیت سوز واقعات کی تاریخ کو سامنے رکھنا چاہئے۔ان لوگوں کو امن پسندی کی تاریخ دیکھنی ہے تو اسلام کی دوسرے خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں مسجد اقصی کی آزادی کی داستانیں دیکھنی چاہئے، سلطان صلاح الدین کا پر امن عہد دیکھنا چاہئے، اور اگر انسانیت کا قتل دیکھنا ہے تو ۱۹۲۰ء سے اب تک یہودی دنیا کی جانب سے بالخصوص فلسطین میں ہوئے خونریز واقعات اور معصوم بچوں کے قتل کی داستان کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

مسلمان آخر امریکہ سے قدس اور یروشلم سے متعلق کس بات کی امید رکھتے ہیں ؟ مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پرمسجد اقصی، ملکی سطح پر بابری مسجد اور اب شاہجہانی جامع مسجد دہلی سے متعلق جن حالات سے ہم جوجھ رہے ہیں یہ دراصل ان مساجد کو ویران کردینے کا نتیجہ ہے۔ آج مسلمانوں نے مساجد کو ویران کردیا یہاں تک کہ ۶؍دسمبرکی تاریخ کو بابری مسجد کی ۲۵ویں برسی والے دن بھی فجر کی نماز میں اکثر مسجدیں ویران تھیں۔اس وجہ سے ہمیں اس کوتاہی پر سنجیدہ غور کرنا ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز