تین طلاق پرسپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی زبردست شکست : مولانا عرفی قاسمی

Aug 25, 2017 05:50 PM IST | Updated on: Aug 25, 2017 05:50 PM IST

نئی دہلی: آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے تین طلاق پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر ایک نشست میں تین طلاق کو غیرقانونی قرار دینے کے فیصلے کو اگر نظر انداز کردیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلم پرسنل لا کے حق میں نظر آتا ہے کیوں کہ عدالت نے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔ آج یہاں جاری ایک ریلیز میں انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے چور دروازے سے مسلم پرسنل لا بورڈ میں مداخلت اور یکساں سول کوڈ کی جانب قدم بڑھانے کے عمل کو سپریم کورٹ سے زبردست جھٹکا لگا ہے اور سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لا میں کسی مداخلت سے انکار کرتے ہوئے دفعہ 25کے تحت حاصل بنیادی حق کا تحفظ کیا ہے۔انہوں نے کہا عدالت نے ایک نشست میں تین طلاق پر پابندی عائد کی ہے نہ کہ تین طلاق کو ختم کیا ہے جیسا کہ میڈیا میں کہا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت عظمی نے تین طلاق کو طلاق بدعت قرار دیتے ہوئے اسے اسلامی شریعت کا لازمی حصہ ماننے اور اس کو مسلمانوں کا بنیادی حق تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، جب کہ ہر دور میں تین طلاق کو تین ہی تسلیم کیا گیاہے۔ انھوں نے کہا کہ جب دستور و آئین میں اس ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب ، اپنے عقیدے پر عمل کرنے اور اپنی تہذیب و ثقافت کی تشہیر و توسیع کی بنیادی حق کے ضمن میں آزادی حاصل ہے، تو پھر اس قسم کے فیصلے خود مشکوک اور کمزور ہوجاتے ہیں۔

تین طلاق پرسپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی زبردست شکست : مولانا عرفی قاسمی

مولانا عرفی قاسمی نے کہاکہ پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بینچ نے اکثریت کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا ہے اور دو جج صاحبان نے تین طلاق کو غیر قانون قرار نہ دیتے ہوئے چھ ماہ تک اس پر پابندی اور حکومت سے قانون بنانے کے لئے ضرور کہا تھا لیکن یہ فیصلہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے خود بخود مسترد ہوجاتا ہے اوراکثریت کا فیصلہ مانا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت عظمی کے اس فیصلہ کو مرکزی حکومت مسلم خواتین کو مساوات اور برابری کا حق دینے کی راہ میں ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے،مگر دوسری طرف ہمارے اکابر ہیں کہ اس فیصلہ کو شریعت کے حق میں بہت خوش آئند تصور کر رہے ہیں۔مولانا نے کہاکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو بھی احتساب کرنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں وہ خود حل کرسکتا تھا۔

مولانا قاسمی نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت واقعی مسلم خواتین کو مساوات اور برابری کا حق دینا چاہتی ہے تو ان کی بہتر تعلیم کا انتظام کرے، گھروں میں ان کے استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے،سڑکوں، چوک چوراہوں پر اور بازاروں میں عورتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، جہیز جیسی لعنت کو ختم کرے،پورے ملک میں شراب پر پابندی لگائی جائے،صرف تین طلاق پر پابندی مسلم خواتین کو مساوی حق دلانے کے معاملے میں بے نتیجہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے لئے طلاق کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کی تعلیم، روزگار، خواتین کی خودانحصاری اور ان کا تحفظ اصل مسئلہ ہے جن سے آج کل وہ دوچار ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرف توجہ دے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز