دہشت گردی کے الزام سے4 مسلم نوجوانوں کی باعزت بری کا ریکارڈ مدت میں فیصلہ قابل ستائش : ارشد مدنی

Apr 10, 2017 09:48 PM IST | Updated on: Apr 10, 2017 11:58 PM IST

ممبئی: منگلور شہر کی ایک خصوصی عدالت نے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہونے اور انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے مبینہ بانیوں بھٹکل برادران کو آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ہوئے بم دھماکوں کے ملزمین کو پناہ دینے کے معاملے میں 4مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیاجبکہ انہیں الزامات کے تحت گرفتار تین مسلم نوجوانوں کو عدالت نے قصور وار قراردیا ہے ۔ ان کی سزاؤں کا تعین 12 اپریل کو کیا جائے گا۔

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے خصوصی عدالت کے فیصلے پر اپنے رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ ایک ریکارڈ مدت میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہوئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ مولانامدنی نے کہا کہ ابھی فیصلہ آنا باقی ہے ۔ 12اپریل کو مکمل فیصلہ سنائے جانے کے بعد ہی وہ اپنے رد عمل کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چار ملزمان کو با عزت بری کئے جانے کے فیصلے کاہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔ مولانامدنی نے کہا کہ باقی ملزمان کو سزا سنائے جانے کے بعد تجزیہ کریں گے تاکہ آئندہ کی کوئی حکمت عملی طے کی جا سکے ۔

دہشت گردی کے الزام سے4 مسلم نوجوانوں کی باعزت بری کا ریکارڈ مدت میں فیصلہ قابل ستائش : ارشد مدنی

فائل فوٹو

خیال رہے کہ اکتوبر 2008 میں ریاض بھٹکل اور دیگر انڈین مجاہدین تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دینے نیز انڈین مجاہدین تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزامات کے تحت منگلور پولس نے سید محمد نوشاد، احمد باوا، محمد علی، جاوید علی،، محمد رفیق ، فقیر احمد اور شبیر بھٹکل کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات اوریو اے پی اے قانون کی مختلف دفعات سمیت آرمس ایکٹ اور ایکسپلوزیو سبسٹنس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز