مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے پر سپریم کورٹ کی پابندی قابل ستائش: مولانا ارشد مدنی

Jan 02, 2017 07:56 PM IST | Updated on: Jan 02, 2017 07:56 PM IST

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آج سپریم کورٹ کی سات نفری بنچ کے ذریعے انتخابات کے دوران مذہب، ذات ، فرقہ اور زبان کے نام پر ووٹ مانگے جانے کو غیر آئینی و غیرقانونی قرار دئے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب ان فرقہ پرست قوتوں کو لگام دی جا سکے گی جو الیکشن کے دوران مذہب اورِ ذات پات کے نام پر ووٹ مانگ کر جمہوری ماحول کو پرا گندہ کرتی رہی ہیں اور کسی خاص مذہب یا فرقہ کے لوگوں کومتحد کر کے الیکشن کے عمل کو متاثر کرتی رہی ہیں ۔

مولانا مدنی نے کہاکہ جمعیۃ علما ہند ہمیشہ سے اس کے خلاف رہی ہے ۔ جد و جہد آزادی کے دوران بھی جمعیۃ نے مذہب ، ذات پات اور زبان کے نام پر تحریک چلانے یا سیاست کرنے کی مخالفت کی تھی اور ا سکا سب سے بڑا ثبوت دوقومی نظریہ کی مخالفت کرنا تھا۔ جمعیۃ علما ہند آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے اور ا س کا ماننا ہے کہ ووٹ ڈالنا ہر ہندوستانی شہری کا آئینی حق ہے نہ کہ مذہبی ۔ اس لئے انتخابات کے دوران مذہب، ذات پات اور زبان کے نام پر وو ٹ مانگنا ایک طرح سے تعصب اور فرقہ پرستی کو فروغ دینا ہے، جیساکہ اب تک بی جے پی جیسی سیاسی پارٹیاں مذہب کے نام پر ملک کے اکثریتی فرقہ کو متحد کرنے کی کوشش کر کے ملک کے عوام کے درمیان مذہب کے نام پر ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں ۔

مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے پر سپریم کورٹ کی پابندی قابل ستائش: مولانا ارشد مدنی

مولانا مدنی نے کہا کہ مذہب یا ذات ہماری اپنی نجی شناخت ہے جبکہ آئینی طور پر ہم سب ہندوستانی شہری ہیں ۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لئے غیر جانبدارانہ انتخابی عمل لازمی ہے ، ایسے میں ہمیں الیکشن کے دوران ہندو مسلمان سکھ یا عیسائی نہیں بلکہ صرف اور صرف ایک ہندوستانی کے طور پر سوچ سمجھ کر اور ملک و قوم کی ترقی اور مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس واضح فیصلے کے بعد اب کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے الیکشن کے دوران مذہب اور ذات پات کے نام ووٹروں سے اپیل جاری کرنا، انہیں گمراہ کرنا اور اس کا سیاسی فائدہ حاصل کرنا نا ممکن ہوجائے گا ۔اب یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہے وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو پوری دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ نافذ کرائے اور خلاف ورزی کرنے والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ قطعی کوئی رعایت نہ برتی جائے ۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں جس طرح سیکولرزم کی تشریح کی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ فی زمانہ ہماری سیاست جس راستے پر گامزن ہے اس کو لے کر عدالت کو بھی تشویش تھی۔ واضح ہو کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کردیا ہے کہ الیکشن ایک جمہوری عمل ہے۔چنانچہ منتخب امیدوار کا کام کاج بھی سیکولر ہونا چاہیے۔مولانا مدنی نے کہا کہ جولوگ اس ملک کو ہندوراشٹر بنانا چاہتے ہیں اب ان کی آنکھیں کھل جانی چاہیے کیوں کہ فاضل عدالت نے اس حوالے سے بھی مکمل اورجامع تبصرہ کردیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ بھگوان اور انسان کے درمیان کا رشتہ ذاتی معاملہ ہے کوئی بھی سرکار کسی ایک مذہب کے ساتھ خصوصی رویہ اختیار نہیں کرسکتی اور نہ ہی ایک مخصوص مذہب کے ساتھ خود کو جوڑ سکتی ہے۔ مولانا مدنی نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک میں قومی اتحاد کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے میں مددگار ثابت ہوگااور اس سے ملک کی ترقی کی راہیں مزید ہموار ہوں گی نیزاس سے سیکولر جمہوریت کو فروغ حاصل ہوگا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز