امرناتھ یاتریوں پر حملہ قابل مذمت اورشرمناک، یاتریوں پر حملہ بی جے پی کے اقتدارمیں ہی کیوں؟ مولانا ارشد مدنی

Jul 11, 2017 09:34 PM IST | Updated on: Jul 11, 2017 09:36 PM IST

نئی دہلی ۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گذشتہ رات کشمیر کے اننت ناگ میں امر ناتھ یاتریوں اور پولس ٹیم پرگھات لگا کر کئے گئے دہشت گردانہ حملہ کی سخت مذمت کی ہے ۔ بین المذاہب کانفرنس میں شرکت کے لئے نیویارک گئے مولانا سید ارشد مدنی نے آج جاری بیان میں کہا کہ مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لئے جانے والے یاتریوں پر قاتلانہ حملہ انتہائی شرمناک اور غیر انسانی ہے ،اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ واضح ہو کہ اس حملہ میں تقریباً سات امرناتھ یاتریوں کی موت ہوگئی جبکہ تین درجن سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ۔امرناتھ یاتریوں پر ہونے والے اس حملہ کو مولانا مدنی نے ریاستی اور مرکزی حکومت کی زبردست ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس حکومت کے پاس پہلے ہی ایسی اطلاعات تھیں کہ یاترا کے دوران دہشت گردحملہ کر سکتے ہیں تو پھر وہ کامیاب کیسے ہوگئے ۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے آئی جی منیر احمد خان کے اس بیان کو بھی مضحکہ خیز بتایا کہ حملہ امرناتھ۔ یاتریوں پر نہیں بلکہ پولس ٹیم پر کیا گیا تھا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جس بس پر حملہ کیا گیا اس کا امرناتھ یاترا شرائن بورڈ میں کوئی رجسٹریشن نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ مولانامدنی نے کہا کہ اس پورے معاملے کی سنجیدگی سے تفتیش کراکے سچائی سامنے لانی چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے اس بات سے انکارنہیں کیا کہ اس کارروائی کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینا اور ماحول کو خراب کرنا ہے۔ مولانا مدنی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر امرناتھ یاتریوں پر حملے بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر ہی کیوں ہوتے ہیں ؟ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل اٹل بہاری باجپائی کی حکومت کے دوران بھی امرناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔ مولانا نے کہا کہ آج مرکز اور ریاست دونوں ہی جگہ اقتدار میں بی جے پی شامل ہے اور آزادانہ فیصلے لینے کی اہل ہے ۔ ا س کے باوجود اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں تو اسے حکومت ، انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی ہی مانا جائے گا۔

امرناتھ یاتریوں پر حملہ قابل مذمت اورشرمناک، یاتریوں پر حملہ بی جے پی کے اقتدارمیں ہی کیوں؟ مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو

امرناتھ یاتریوں پر حملہ سے ایک روز قبل لشکر طیبہ کے لئے کام کرنے والے دہشت گرد سند یپ شرما کی گرفتاری کے تعلق سے مولا نا مدنی نے کہا کہ ہم تو پہلے سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ملک کی جڑوں کو کھودنے کا کام مسلمان نہیں کر رہے ہیں ۔ چند سال قبل ایماندار آفیسر ہیمنت کرکرے نے حقیقت پر سے پردہ اٹھایا تھا اور ان کی کوشش سے سادھوی پرگیہ اور کرنل پروہت وغیرہ پکڑے گئے تھے ۔ سادھوی تو اب ضمانت پرجیل سے باہر آ چکی ہے لیکن پروہت وغیرہ ابھی جیل میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندیپ شرما کے لشکر طیبہ کے لئے کام کرنے کی بات سامنے آنے پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہے ۔ اب تک جوکچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے اس کے پیچھے ایسے ہی لوگ ملوث ہیں ، مسلمان نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بد قسمتی یہ ہے کہ فرقہ پرست ذہنیت والے ذمہ دار لوگ اس طرح کے کام انجام دینے والوں کو اپنی چادروں میں چھپاتے ہیں جبکہ بے قصور لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر جیلوں میں بھیج کر ان کی زندگی کوتباہ کرتے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز