سپریم کورٹ کا ’’خلاف شریعت‘‘ فیصلہ دیندار مسلمانوں پر اثر انداز نہیں ہوگا : مولانا ارشد مدنی

Aug 22, 2017 05:50 PM IST | Updated on: Aug 22, 2017 05:55 PM IST

نئی دہلی۔  جمعیۃ علما ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے طلاق ثلاثہ کوغیر آئینی قرار دیئے جانے کے سپریم کورٹ کے آج کےفیصلے کو شریعت کے خلاف قرار دیا۔ فیصلے پر اپنے فوری ردعمل میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ چونکہ ایک اکثریتی فیصلہ ہے اور پانچ ججوں نے الگ الگ اپنا فیصلہ سنایا ہے اس لئے اس فیصلہ کا سنجیدگی سے تجزیہ اور مطالعہ کرنے کے بعد ہی آئندہ کے لئے کوئی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

انہوں نے اس انتباہ کے ساتھ کہ آنے والا وقت مسلمانوں کے لئے اور بھی مسائل کوجنم دے سکتا ہےمسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ و ہ ہرگزمایوس نہ ہوں اور صبرو، ضبط اور امن کے ساتھ خیر کا راستہ نکالتے ہوئے اسلام کو اپنی زندگی کے ہرپہلو میں اتارنے کی سعی اور کوشش کریں۔ واضح ہو کہ سپریم کورٹ میں جسٹس کیہرسنگھ کی قیادت والی پا نچ رکنی آئینی بنچ نے آج اپنے ایک اہم اکثریتی فیصلہ میں طلاق ثلاثہ کوغیرآئینی قراردیتے ہوئے اس پرحکم موقوفی جاری کیا اورحکومت کو اس معاملے میں چھہ ماہ کے اندرقانون بنانے کی ہدایت دی ہے۔

سپریم کورٹ کا ’’خلاف شریعت‘‘ فیصلہ دیندار مسلمانوں پر اثر انداز نہیں ہوگا : مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو

جمعیۃ علما ہند کے صدر نے یہاں جاری ایک ریلیز میں مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں حکومت میں موجود اعلیٰ مسند نشیں کی مبینہ دلچسپی کے حوالے سے اندیشہ ظاہر کیا کہ آنے والا وقت مسلمانوں کے لئے اور بھی مسائل کوجنم دے سکتا ہے، جن کے لئے انہیں ذہنی طور پر تیاررہنے کی ضرورت ہے۔ ’’معاملہ صرف طلاق تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ بر سر اقتدارسیاسی جماعت بی جے پی اوراس کی ’مدرآگنائزیشن‘ آر ایس ایس کے ملک کو ہندو راشٹرمیں تبدیل کرنے اوریکساں سول کوڈ تھوپنے کے ایجنڈہ کا ہی ایک حصہ ہے‘‘۔ طلاق سے متعلق فیصلے پر اپنے ردعمل میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو مسلمان اسلام کوسمجھتا ہے اوراپنی زندگی شریعت کی پابندی کے ساتھ گذارنا چاہتا ہے، وہ شریعت پر عمل کرے ۔جسے عدالت میں جانا ہے وہ جائے گا اورملک کا قانون اپنا کام کرے گا

سپریم کورٹ میں جسٹس کیہرسنگھ کی قیادت والی پا نچ رکنی آئینی بنچ نے آج اپنے ایک اہم اکثریتی فیصلہ میں طلاق ثلاثہ کوغیرآئینی قراردیتے ہوئے اس پرحکم موقوفی جاری کیا اورحکومت کو اس معاملے میں چھہ ماہ کے اندرقانون بنانے کی ہدایت دی ہے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس کیہرسنگھ کی قیادت والی پا نچ رکنی آئینی بنچ نے آج اپنے ایک اہم اکثریتی فیصلہ میں طلاق ثلاثہ کوغیرآئینی قراردیتے ہوئے اس پرحکم موقوفی جاری کیا اورحکومت کو اس معاملے میں چھہ ماہ کے اندرقانون بنانے کی ہدایت دی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد فیصلہ کے خلاف اپیل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح ہو کہ اس معاملہ میں سب سے پہلے مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پرجمعیۃ علما ہند نے سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے از خود قبول کی گئی عرضداشت کی مخالفت کی تھی اور اس معاملہ میں مسلمانوں کے حقوق(سنّی حنفی) کو پیش کیا تھا اور سپریم کورٹ نے سو موٹو پٹیشن میں جمعیہ علما ہند کو بطور فریق تسلیم کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز