اگر حالات یوں ہی برقرار رہے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے: مولانا ارشد مدنی

Dec 12, 2017 01:16 PM IST | Updated on: Dec 12, 2017 02:38 PM IST

نئی دہلی ۔ راجستھان کے راجسمند میں مبینہ لوجہاد کے نام پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے محمد افراز الاسلام کوزندہ جلا کر مار ڈالنے کے بھیانک منظر کی ویڈیوگرافی اور اس غیرانسانی فعل پر اظہارشرمندگی کے بجائے فخرکا اظہارکرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اگر ان واقعات پر فوری طور پر قابو نہیں پایا گیا تو اس کے بھیانک نتائج مرتب ہوں گے اور اس کی ذمہ دار مرکز کی مودی حکومت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ  ہمارے معاشرہ کے انتہائی پستی میں چلے جانے کی علامت ہے اور اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ہندوستان میں سیکولراکثریت فرقہ پرستی سے خوف زدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسو س کی بات تو یہ ہے کہ مذہب سے اوپراٹھتے ہوئے متعدد تنظیموں نے اس غیر انسانی فعل کے خلاف اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے  لیکن ارباب اقتدار کی زبانیں گنگ ہیں اور سیاسی نفع و نقصان کے پیش نظر بیان تک جاری کرنے سے گریز کیا گیا ۔ مولانا نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ملک کی سیاست اس ملک کو کس جانب لے جاناچاہتی ہے۔ یہ باتیں جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سیدارشد مدنی نے اپنے بنگلہ دیش دورے سے واپسی پر میڈیا سے بات چیت کے دوران کہیں۔

مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ ہم پہلے سے کہتے آ رہے ہیں کہ نفرت کی سیاست کرنے والے ملک میں بد امنی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ سلسلہ اخلاق سے شروع ہوا تھا اور اب افراز الاسلام  تک اس طرح کے تقریبا50-60واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں مسلمانوں کا کھلے عام قتل کیا جا چکا ہے۔ افسوس کی بات تویہ ہے کہ ایسے تمام واقعات ان ہی ریاستوں میں پیش آئے ہیں جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کی بھی انہیں خاموش حمایت حاصل ہے۔ جمعیتہ علما ہند کے صدر نے کہا کہ راجستھان کے واقعہ نے ایک بار پھر انسایت کو شرمسار کیا ہے اور پوری دنیا میں اس کی مذمت کی جا رہی ہے اور ان حالات پر قابو پانے کے لئے اس طبقہ کے خلاف سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے لیکن سیاستداں ہی خود اس معاملے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس کی مذمت تک کرنے کو تیارنہیں ہیں ۔

اگر حالات یوں ہی برقرار رہے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

مولانا نے کہا کہ اگر حالات یونہی برقرار رہے تواس کا بھیانک انجام برآمد ہوگا۔ کسی کوبھی قانون ہاتھ میں لینے کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی ۔ ا س طرح تو گھر بھی نہیں چل سکتا ملک تو دور کی بات ہے ؟ راجستھان قتل معاملے میں ہندومسلم تنظیموں کے زبردست احتجاج سے متعلق سوال پر مولانا مدنی نے کہا کہ مذہب سے اوپر اٹھ کرکام کر رہی یہ تنظیمیں اندھیرے میں روشنی کی کرن کی مانند ہیں ۔ ایک طرف جہاں انسانی حقوق سے متعلق کچھ تنظیمیں اور چند افراد کافی سرگرم ہیں وہیں ملک کے باقی تمام لوگ خاص طور سے سیاستداں تو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔  قومی میڈیا خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا جو مسلمانوں سے متعلق چھوٹے موٹے معاملات پر ایک ہنگامہ برپا کئے رکھتا ہے اس نے راجستھان کے اتنے اہم ایشو کو اپنی خبروں میں جگہ دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔  یہ نام نہاد میڈیا کی منفی سوچ کا مظہر ہے ۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملے میں سڑکوں پر اتر کر غصہ کا اظہار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ مختلف تنظیموں نے مختلف طریقوں سے احتجاج کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز