سپریم کورٹ کا اڈوانی ، جوشی اوراوما سمیت 12کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم قابل قدر: مولانا ارشد مدنی

Apr 19, 2017 06:49 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 06:49 PM IST

نئی دہلی : جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے ذریعے آج بابری مسجد انہدام کیس کے تعلق سے لئے گئے اہم فیصلے کو ملک کی جمہوریت،قانون کی بالا دستی اور عوام کے آئین و قانون میں اعتماد کے تحفظ کی سمت ایک انتہائی مثبت بلکہ تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ واضح ہو کہ سپریم کورٹ نے آج ہدایت دی ہے کہ بابری مسجد سے متعلق لکھنؤ اور رائے بریلی دونوں جگہ جاری مقدمے کوایک جگہ کر کے اب لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں چلایا جائے گا ، سماعت روزانہ ہوگی، کسی بھی دن سماعت ملتوی نہیں ہوگی ، سماعت کے دوران مجسٹریٹ کا تبادلہ نہیں کیاجائے گا ۔ عدالت میں سماعت کے دوران سی بی آئی کی جانب سے روزانہ کم سے کم ایک گواہ ضرور موجود رہے گا اور عدالت کو دوسال کے اندر فیصلہ سنانا ہوگا ۔نیز سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کی سازش میں ملوث ہونے کے معاملے میں سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 12ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کی ہدایت بھی دی ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو مولانا سید ارشد مدنی نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امن پسنداور قانون کی بالا دستی میں یقین رکھنے والے ملک کے عوام کا آئین و قانون کے تئیں اعتماد مزید مضبوط اور مستحکم ہوا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ جب بھی کسی ملک میں کوئی پارٹی یا شخصیت بر سر اقتدار آتی ہے تووہ ملک کو اپنی خواہشات و مفادات کے مطابق چلانے کی کوشش کرتی ہے ۔ ایسے میں آئین و قانون کا تحفظ کرنے والی ایجنسیوں بالخصوص عدلیہ کا یہ اہم فرض بن جاتا ہے کہ وہ بر سر اقتدار جماعت یا فرد کو ایساکوئی کام نہ کرنے دے جو ملک کے آئین ، قانون اور روایات کی خلاف ورزی کرنے والا ہو۔ مولانا مدنی نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں صدر منتخب ہو جانے کے بعدڈونالڈ ٹرمپ نے جب اپنی خواہشات تھوپنے کی کوشش کی تو نہ صرف یہ کہ امریکہ کے انصاف پسند عوام سڑکوں پر نکل آئے بلکہ قانو ن اورآئین کا تحفظ کرنے والے ادارے بھی حرکت میں آ گئے اور ملک کے قانون، آئین اورروایات سے ٹکرانے والے ٹرمپ کے احکامات کو خارج کر دیا گیا۔ اس کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے اپیل کی گئی تو اسے بھی عدلیہ نے مسترد کر دیا ۔ا سکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب امریکہ میں سب کچھ اپنی سابقہ روایات کے مطابق چل رہا ہے۔

سپریم کورٹ کا اڈوانی ، جوشی اوراوما سمیت 12کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم قابل قدر: مولانا ارشد مدنی

فائل فوٹو

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان بھی کم و بیش ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے لیکن یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ ہماری عدلیہ بھی پوری طرح بیدار، محتاط اور غیر جانبدار ہے ۔ سپریم کورٹ کا بابری مسجد سے متعلق آج کا فیصلہ بھی اسی بات کی غمازی کرتا ہے ۔ ہم اس کی تائید و حمایت کرتے ہیں بلکہ یہ ہمارا مطالبہ تھا کہ بابری مسجد مقدمہ کی روزانہ کی بنیاد پر مسلسل سماعت کرائی جائے تاکہ اس کا جلد سے جلد فیصلہ آ سکے ، کیونکہ ’بابری مسجد ۔رام جنم بھومی ایشو ‘ ایک انتہائی نازک اور حساس معاملہ ہے کہ جس نے کم و بیش چار دہائیوں سے ملک کی سیاست اور سماج دونوں کو کافی اثر انداز کیا ہے اور یہ آج بھی ملک میں اکثریت اور اقلیتی فرقہ کے درمیان کشیدگی اور ٹکراو کا سبب بنا ہوا ہے۔

جمعیۃ علما ہندعدالت عالیہ کی جانب سے اس مقدمہ کوٹائم باؤنڈ کئے جانے کا خیر مقدم کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ اب جلد ہی 25سال پرانے اس قضیہ کوحل کیا جا سکے گا اور بابری مسجد کو شہید کرنے والے ملزمین کو عدالت سے سخت سزائیں مل سکیں گی۔ واضح ہو کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والے مسلم کش فسادات میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوئی تھیں ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند نچلی عدالت میں اڈوانی اورجوشی وغیرہ کے خلاف چلنے والے مقدمہ میں بطور مداخلت کار اپنے دلائل پیش کرنے کی عدالت سے اجازت طلب کرے گی۔اس کے لئے قانونی تیاری کی جا رہی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ حال ہی میں اس معاملے کو عدالت سے باہر ہی بات چیت سے حل کر لینے کی تجویز کو جمعیۃ علما ہند نے نا منظور کر دیا تھا کیونکہ اس سے قبل سات بار بات چیت ہو چکی ہے لیکن ہر بار ناکامی ہی ملی ہے۔ یہ معاملہ اعتقاد اور ملکیت کا ہے جس سے مسلمان ہر گز دستبردار نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز