نئے عہدیداران کا انتخاب مجلس شوری کے اتفاق رائے سے کیا گیا : مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

الزام تراشیوں اور بیان بازیوں کے درمیان 24 ستمبر بروز اتوار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے نئے عہدیداروں کا انتخاب عمل میں آیا ۔

Sep 24, 2017 02:12 PM IST | Updated on: Sep 24, 2017 09:41 PM IST

نئی دہلی: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے جاری اخباری بیان کے مطابق آج مورخہ 24 ستمبر 2017 کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس شوریٰ کا انتخابی اجلاس بمقام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی منعقد ہوا۔ جس میں معروف عالم دین اورسابق ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے باتفاق رائے امیر منتخب ہوئے ۔ جبکہ ناظم عمومی کی حیثیت سے مولانا محمدہارون سنابلی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی وسابق ناظم شعبہ تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور ناظم مالیات کی حیثیت سے الحاج وکیل پرویز صاحب منتخب کئے گئے۔یہ انتخابات نہایت امن و سکون ، وقار اورپوری شفافیت کے ماحول میں دستوری تقاضوں کوبروئے کارلاتے ہوئے عمل میں آیا۔اس اجلاس میں پورے ملک سے دوسوسے زائداراکین شوریٰ نے شرکت کی۔

حسب ایجنڈا سابقہ کارروائی کی خواندگی وتوثیق اور رپورٹ ناظم عمومی کے بعد اجلاس کا آغاز مولانا عبداللہ حیدر آبادی عمری مد نی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث تمل ناڈو پانڈیچری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پھر انتخابی بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی۔ متعدد اراکین کی تجویز اور تائید سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی امارت کے لیے مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا نام پیش ہوا۔ اورآپ کے انکار کے باوجود بالاتفاق آ پ کو امیر منتخب کر لیا گیا ۔ اسی طرح دوسرے عہدیداران کے انتخابات بھی اتفاق رائے سے عمل میں آئے ۔ بعد ازاں نو منتخب امیر نے سابق امیر حافظ محمد یحییٰ دہلوی اور ان کے والد ماجد کی خدمات عظیمہ کا والہانہ ذکر کیا اور ان کی صحت کے لیے دعا کی اور سب کو اتحاد و اتفاق سے کام کرنے کی تلقین کی۔ مؤقرامراء ونظمائے صوبائی جمعیات اہل حدیث اور اراکین نے اپنے تاثرات میں توقع ظاہرکی کہ مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی صاحب نے بحیثیت ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ملک و ملت اور انسانیت کی جوگراں قدر خدمات انجام دی ہیںان کا تسلسل مزید توانائی اورقوت کے ساتھ جاری رہے گا۔

نئے عہدیداران کا انتخاب مجلس شوری کے اتفاق رائے سے کیا گیا : مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

اجلاس مجلس شوریٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بحسن و خوبی اختتام پذیر

پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس شوریٰ کے اس انتخابی اجلاس میں ملک وملت اور انسانیت سے متعلق بہت سارے امور زیر غور آئے اور اخیر میں ان سے متعلق کئی نکاتی قرار داد پاس ہوئی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ مسلم نوجوانوں کا مختلف عدالتوں سے باعزت بری ہونا اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ان کا ملک مخالف سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح اجلاس میں ملک اور بیرون ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات اور داعش کی ظالمانہ اور تخریبی سرگرمیوں اورروہنگیامسلمانوں کی برمی فوج کے ذریعہ نسل کشی اورانصاف پسند صحافیوں کے قتل کی مذمت کی گئی ۔ علاوہ ازیں ملک کے مختلف حصوں بہار، بنگال، آسام، گجرات وغیرہ میں سیلاب سے ہوئے جانی ومالی نقصانات اور گورکھپور کے بی آرایس میڈکل کالج میں آکسیجن کی کمی کے سبب تقریبا پانچ درجن بچوں کی اموات پر رنج وغم کا اظہارکیاگیا۔

شوری کی قرارداد میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی جوڈیشیل تحقیقات اورنام نہاد گئو رکھشکوں کے دریعہ بے قصوروں کے قتل کی مذمت اورملک میں بڑھتی بے روزگاری اورمہنگائی پر اظہارتشویش کیا گیاہے۔ قراردادمیں مسئلہ فلسلطین کے منصفانہ حل اور ملی تنظیموں اورتمام مسالک کے علماء سے اتحاد واتفاق کے ساتھ رہنے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں تمام مسلکوں کومتناسب نمائندگی، ملک کی مختلف ریاستوں کی جیلوںمیں بند نوجوانوں کوضمانت پر رہا کرنے اوران کے مقدمات کے جلد از جلد تصفیہ کی اپیل اورجماعت وجمعیت کے اندر انتشار پھیلانے والوں کی مذمت اورملک کے بعض مذہبی پیشواؤں کے اوپر لگنے والے کرپشن اور اخلاق باختگی کے الزامات پر اظہار افسوس اورریل حادثات میں اضافہ کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح فریضہ حج کی بہترین ادائیگی اورحسن انتظامات پر مملکت سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اورتمام معاونین واہلکاروں کو مبارکباد اور روہنگیائی مسلمانوں کے لئے سعودی عرب کی مالی امداد پر شکریہ ادا کیا گیا ہے اور تہواروںکے موقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے حساس مسائل میں حاشیہ پرہی سہی کتاب وسنت سے مستنبط و مشہور مسائل کو بھی شامل کرنے کی اپیل کی گئی ہے اور مختلف دینی، جماعتی اور قومی و ملی سربراہوں کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز