داعش اوردہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں بھر پور قومی یکجہتی کا ثبو ت دیں : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

Mar 20, 2017 09:19 PM IST | Updated on: Mar 20, 2017 09:33 PM IST

نئی دہلی: قومی یکجہتی اور انسانیت نوازی ہر وقت اور ہر معاشرہ کی ضروت ہے ،سب مل کرقومی یکجہتی کا ثبوت دیں ، انسانیت کا دم بھریں اورامن وشانتی کوعام کریں تاکہ ملک ومعاشرہ اور سارے جہاں میں اخوت و محبت ، عدل و انصاف اور ہمدردی و خیر خواہی کا جذبہ پروان چڑھے اور کسی طرح کی دہشت گردی کو پنپنے کا موقع ہی نہ ملے اور اس طرح ہر جگہ اخوت کی فراوانی اور محبت کی جہاں بانی ہو۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے کیا۔ وہ مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان آل انڈیا اہل حدیث سیمیناربعنوان: ’’ داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘ سے افتتاحی خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی ایک ناسور بنا ہوا ہے اور عالمی طور پر اس کا چرچا ہے۔ اس کی بیخ کنی کے لیے جتنی جتن ہو کیا جانا چاہئے۔ داعش کا عظیم ترین فتنہ دشمنان اسلام کا ایک بہت بڑا حربہ اور ہتھکنڈہ ہے اسے ختم کرنے کے لیے بھی ہمیں متحدہ طور پر قومی یکجہتی اور انسانیت نوازی کو عام کرنا ضروری ہے۔ عدلیہ نے جس طرح سے بہت سارے مقدمات میں دہشت گردی کے نام پر مظلوموں اور بے قصوروں کو بری قرار دیا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے اس سلسلے میں مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں۔

داعش اوردہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں بھر پور قومی یکجہتی کا ثبو ت دیں : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

سابق کمشنر برائے اقلیتی السنہ،حکومت ہندپروفیسر اخترالواسع نے اپنی تقریر میں دہشت ووحشت کے کاروبار کے خلاف جمعیت اہل حدیث کی تحریک کی تعریف کی ۔دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤکے مہتمم ڈاکٹرسعیدالرحمن الاعظمی نے کہاکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے سلسلہ میں دشمنان اسلام کی سازشوں کا دائرہ وسیع تر ہوتاجارہاہے۔مغربی معاشرہ میں اسلام مخالفت کا رجحان بڑھا اور مغربی تہذیب نے اس میں ہراول دستے کا کام کیا۔یہود کی مجرمانہ سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔عصر حاضر میں داعش کا فتنہ عالم اسلام کے لئے صرف تشویش کن ہی نہیں، بلکہ اس کی پیشانی پر بدنماداغ ہے۔یہ یہودیوں کا تیار کردہ گروہ اور مغرب کا پروردہ ہے۔

جماعت اسلامی ہندکے امیرمولاناجلال الدین عمری نے کہاکہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ایک تنظیم داعش کے نام سے وجود پذیر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے علاقہ پر قابض ہوگئی اور قتل وخونریزی کے سارے ریکارڈ توڑدئے۔دنیاکی کوئی بھی مسلم تنظیم یا صاحب علم ایسا نہیں ملے گا جس نے اس کی تائید کی ہو۔ پھر اسے کیسے اسلامی کہاجاسکتاہے؟ آل انڈیاملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظورعالم نے کہاکہ1915،16،17 ء میں اسلام مخالف طاقتوں کامسلم ممالک کو تقسیم کرنے کے لئے ایک پیکٹ ہواتھا۔اسی منصوبہ کے تحت ترکی کو شکست دی گئی۔ آج جو بھی کچھ ہورہاہے وہ سب اسی پیکٹ کی تنفیذ ہے ۔ہمیں یہ ہرگز نہیں سوچناچاہئے کہ داعش ختم ہوگیاتو کوئی ایسی ہی تنظیم اس کی جگہ نہیں لے گی۔

phto 1

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدرنویدحامد نے داعش کاپس منظر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ داعش ایک چھلاوہ ہے جس سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے داعش کے خلاف مرکزی جمعیت کے اجتماعی فتویٰ پرذمہ داران جماعت کو مبارکبادپیش کی اور کہا کہ یہ حکومت اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ داعش کے تمام وسائل کو بند کریں۔زکوۃ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرمحمود نے بنیادی فرائض پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ امن کا رشتہ عدل سے ہے۔ ہر شہری کے حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔اتراکھنڈحج کمیٹی کے سابق صدرمولانازاہدرضارضوی نے کہا کہ قومی یکجہتی کی ملک کو ضرورت ہے،انسانیت کو ضرورت ہے۔ ہم وطن کے اعتبار سے ہندوستانی اور مذہبی اعتبار سے مسلمان ہیں۔آج دہشت گردی جیسی برائیاں دنیا میں بہت ہیں۔ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑاجارہاہے۔

مفتی عطاء الرحمن قاسمی صدر شاہ ولی اللہ انسٹیٹیوٹ، نئی دہلی نے کہاکہ یہ اس وقت کا بہت بڑا المیہ ہے کہ جنہوں نے وطن کوایک قطرہ خون نہیں دیا وہ دیش بھکت اور جنہوں نے سب کچھ لٹادیا وہ دیش کے غدار کہے جارہے ہیں۔داعش کی حرکتیں غیراسلامی ہیں، وہ ہندوستان میں نہیں پنپ سکتی۔

ممتاز ہندورہنماپنڈت این کے شرما نے سناتن دھرم کی رواداری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ جو زمین پر ہیں وہ ہمارے بھائی ہیں۔حضرت محمد ہمارے نزدیک اتنے ہی قابل احترام ہیں جتنے آپ کے نزدیک ہیں کیونکہ ان کا تذکرہ ہماری مذھبی کتابوں میں ہے۔ اسلام پوری انسانیت کے لئے ہے۔گذشتہ تمام اجتماعات وسمپوزیم کی ستائش کی اور کہاکہ غیر سماجی عناصر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے ۔ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر تمام مسالک کے لوگ متحدہوجائیں تو حکومت اور سیاسی پارٹیاں مسلم مسائل کو حل کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گی۔

آل انڈیا تنظیم ائمہ مساجد مولانا عمیر الیاسی نے سیمینار کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ سیمینار کا موضوع بہت اہم ہے ۔ کیوں کہ قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مولانامحمدمسلم قاسمی صدر جمعیۃ علماء دہلی نے بھی پروگرام کے انعقاد کے لئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی تعریف کی ۔ڈاکٹر عبدالرحمن انجاریا ممبئی نے کہا کہ داعش کے خلاف مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کا اجتماعی فتویٰ قابل مبارکباد ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز