کشمیر میں ہندوستان سے زیادہ پاکستانی ٹی وی چینل دیکھے جاتے ہیں: مولانا اطہر دہلوی

Mar 27, 2017 12:25 PM IST | Updated on: Mar 27, 2017 12:44 PM IST

جموں۔  انجمن منہاج الرسول کے چیئرمین مولانا سید اطہر دہلوی نے دعویٰ کیا ہے کہ وادئ کشمیر کی صورتحال جو پہلے سیاسی نوعیت کی تھی، اب فرقہ وارانہ رنگ اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے افغانستان کے حالات کے لئے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک (پاکستان) کشمیر میں بھی افغانستان جیسے حالات پیدا کرنے کی سمت میں کام کررہا ہے۔ مولانا نے کشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کے لئے بنیاد پرست گروپوں اور پاکستان کے سوا تمام دیگر متعلقین کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں ہندوستان سے زیادہ پاکستان کی ٹی وی چینلیں دیکھی جاتی ہیں۔ اطہر دہلوی نے یہاں یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’ماسوائے پاکستان اور بنیاد پرست قوتوں کے تمام متعلقین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جانا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا ’ پاکستان نے جو افغانستان میں کیا، اس کو یہاں کشمیر میں دہرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ میری ذاتی رائے یہی ہے کہ دہائیوں پرانی اس الجھن کو حل کرنے کے لئے کشمیر میں تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے‘۔

مولانا نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو اس الجھن کے حل کے لئے ناگا لینڈ طرز کے مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا ’پہلے کشمیر کی صورتحال سیاسی نوعیت کی تھی، لیکن اب یہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کررہی ہے‘۔ منہاج الرسول کے چیئرمین نے کہا ’ہماری تنظیم اس خطے بشمول وادئ کشمیر میں امن اور رواداری کی بحالی کے لئے کوشاں رہی ہے‘۔ انہوں نے کہا ’کشمیر کے تین روزہ دورے کے دوران مجھے اس بات کا مشاہدہ ہوا کہ اہلیان وادی امن اور رواداری کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔ وہ ترقی چاہتے ہیں‘۔ مولانا اطہر نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پنجاب کی مابعد 1984 ء کی صورتحال کے جیسی ہے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان کشمیر میں افغانستان اور فلسطین کے جیسے حالات پیدا کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ ہمیں پاکستان کے ان مذموم منصوبوں کو سمجھنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا ’کشمیر میں نوجوان اپنے آپ کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ وہ تعلیم اور مختلف سہولیات کے متمنی ہیں۔ اس کے لئے مرکزی سرکار کو ماسوائے بنیاد پرست قوتوں کے اہلیان وادی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے چاہئیں‘۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا اطہر نے کہا ’پاکستان جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو اکسا رہا ہے۔ وہ اس کام کے لئے سوشل میڈیا کو استعمال میں لارہا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’تاہم امید کی کرن اب بھی باقی ہے کیونکہ نوجوان چھروں اور بندوقوں کی دنیا سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ وہ سہولیا ت چاہتے ہیں‘۔

کشمیر میں ہندوستان سے زیادہ پاکستانی ٹی وی چینل دیکھے جاتے ہیں: مولانا اطہر دہلوی

تصویر: اے این آئی

مولانا نے کہا ’کشمیر میں ہندوستانی ٹی وی چینلوں سے زیادہ پاکستانی چینلیں دیکھی جاتی ہیں۔ یہ بھی پریشانی کا ایک سبب ہے‘۔ کشمیر کے دو پارلیمانی حلقوں (سری نگر اور اننت ناگ) پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا ’لوگ علیحدگی پسندوں کی جانب سے دی گئی بائیکاٹ کال کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ کشمیر میں جمہوریت کی جیت ہماری جیت تصور کی جائے گی‘۔ اطہر دہلوی نے کہا ’عام کشمیریوں کا 2014 کے سیلاب کے دوران غیرمعمولی نقصان ہوا۔ سیاحتی شعبہ بھی بری طرح سے متاثر ہوا۔ لیکن وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے نعرے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس کے تحت‘‘ انڈسٹریل سیکٹر ، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں کو بحال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کشمیر کا ملک کے ساتھ بانڈ کو برقرار رکھنے کے لئے اس خطے کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیے‘۔انہوں نے کہا ’وزیر اعظم کسانوں کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ لال بہادر شاستری کا ’’جے جوان جے کسان‘‘ والا نعرہ یہاں کے اُن لوگوں پر صادق آتا ہے جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کے ساتھ لڑ کر ملک کی سالمیت کی حفاظت کرنے کے علاوہ کشیدگی کے عالم میں بھی اپنی زمین پر کاشت کرتے ہیں‘۔ مولانا نے کہا کہ مرکز کو سرحدوں کو فروغ دینے کے لئے بارڈر ایئریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ مولانا دہلوی اپنے دورہ کشمیر کے اختتام پر ہفتہ کے روز سرمائی دارالحکومت پہنچے جہاں رات دیر گئے کچھ مشتبہ کشمیری نوجوانوں نے اُن کے پی ایس او پر حملہ کرکے اس سے اُس کی اے کے 47 چھین لی۔ ہتھیار چھیننے کے معاملے میں اب تک 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مولانا اطہر نے ہتھیار چھیننے کے واقعہ کے بارے میں یو این آئی کو بتایا ’سرکاری گاڑی نے مجھے رات کے ساڑھے نو بجے ریاستی گیسٹ ہاوس پہنچایا جس کے بعد گاڑی کا ڈرائیور اور پی ایس او وہاں سے چلے گئے‘۔ انہوں نے اس واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ریاستی پولیس انتظامیہ نے محمد حنیف نامی پولیس کانسٹیبل کو مولانا اطہر کی حفاظت پر مامور کردیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز