مولانا آزاد کے افکار ونظریات سے استفادہ کئے بغیرملک ومعاشرے کی ترقی محال

آزاد ڈے کے عنوان سے کیفی اعظمی اکادمی میں منعقد کی گئی ادبی تقریب میں دنیائے ادب کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

Nov 11, 2017 08:30 PM IST | Updated on: Nov 11, 2017 08:30 PM IST

 لکھنؤ۔ موجودہ عہد میں مولانا آزاد کی تعلیمات کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انہوں نے ہندو مسلم ایکتا اور قومیت کے تعلق سے جو نظریات وافکار پیش کئے تھے وہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہیں۔  ان خیالات کا اظہار لکھنؤ میں منعقدہ سمینار میں کیا گیا۔ آزاد ڈے کے عنوان سے کیفی اعظمی اکادمی میں منعقد کی گئی ادبی تقریب میں دنیائے ادب کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

 مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی لکھنئو کی جانب سے منعقد کی گئی اس ادبی تقریب میں پروفیسر رضوان قیصر، پروفیسر محمد مزمل ، ڈاکٹر ایس پی سنگھ اور پروفیسر ماہ رخ مرزا سمیت اہم ادیبوں اور دانشوروں نے مولانا ابو الکلام آزاد  کی شخصیت اور ان کی خدمات کا احاطہ کیا۔ پروگرام کے کنوینر ومعروف ادیب ڈاکٹرعمیر منظر کی جانب سے بھی ان خیالات کی ترجمانی کی گئی کہ مولانا آزاد کے افکار ونظریات ان چراغوں کی طرح ہیں جن کی روشنی سے استفادہ کئے بغیر ملک ومعاشرے کی ترقی اور قومی استحکام کا تصور محال ہے ۔ مولانا آزاد نے ملک کی تقسیم کے دوران جن خیالات  اور نظریات کا اظہار کیا تھا  وہ آج حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہے ہیں۔ مولانا نے جن مسائل کی بنیاد پر تقسیم وہجرت کی مخالفت کی تھی وہ آج زندگی کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں لہٰذا ملک کی ترقی، سلامتی خوشحالی اور اتحاد کے لئے تعلیمات آزاد سے استفادہ ضروری ہے۔

مولانا آزاد کے افکار ونظریات سے استفادہ کئے بغیرملک ومعاشرے کی ترقی محال

ادھر بھوپال میں مولانا ابو لکلام آذاد کی یوم پیدائش کے موقع پر مدھیہ پر دیش کانگریس کے دفتر میں ابولکلام  آذاد کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے جلسے کا انعقاد کیا اورانھیں خراج عقیدت پیش کی -اس پر وگرام میں کانگریس کے لیڈران موجود تھے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز