کشمیر میں اردو یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کی تعمیر جلد ، دیوار بندی کیلئے 3 کروڑ روپے منظور

Mar 09, 2017 01:48 PM IST | Updated on: Mar 09, 2017 01:48 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے سیٹلائٹ کیمپس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر گذشتہ 4 برسوں سے جاری تعطل عنقریب ختم ہونے والا ہے کیونکہ یونیورسٹی حکام نے کیمپس کی دیوار بندی ، باب الداخلہ اور گارڈ روم کی تعمیر کے لئے 3 کروڑ روپے کے پروجیکٹ کو منظوری دے دی ہے۔ وسطی ضلع بڈگام کے پاٹواو علاقہ میں 100 سے زائد کنال سرکاری اراضی پر بننے والے ملک کی واحد قومی اردو یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کا سنگ بنیاد 28 مئی 2013 ء کو اُس وقت کے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل ڈاکٹر ایم ایم پلم راجو اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رکھا تھا، لیکن تب سے لیکر اب تک کیمپس کے اندر کوئی تعمیراتی کام شروع نہیں کیا گیا جس کے باعث وادی میں اردو کے شیدائیوں اور اس زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلاب میں مایوسی پیدا ہوئی تھی۔

اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کے مطابق یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کشمیر میں تعمیر کا کام عنقریب شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ پروسیجرل مسائل مذکورہ کیمپس میں تعمیراتی ڈھانچوں کا کام شروع کرنے میں تاخیر کا سبب بنے تھے جن کو اب حل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا ’پہلے مرحلے میں کیمپس کے چاروں اطراف دیوار، ایک باب الداخلہ اور ایک گارڈ روم کی تعمیر کی جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کے پروجیکٹ پر 3 کروڑ سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔

کشمیر میں اردو یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کی تعمیر جلد ، دیوار بندی کیلئے 3 کروڑ روپے منظور

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ’کشمیر سیٹلائٹ کیمپس‘ کو 18 مارچ کو ہونے والی یونیورسٹی ایگزیکٹوکمیٹی میٹنگ کے ایجنڈے میں بھی رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’قبل ازیں یونیورسٹی کی بلڈنگ اور فائنانس کمیٹی نے موضوع کو منظوری دے دی ‘۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ یونیورسٹی ایک منصوبے پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کا مقصد اردو یونیورسٹی کا دائرہ کار پورے جموں وکشمیر میں پھیلانا ہے۔ دریں اثنا یونیورسٹی کی طرف سے وادی میں سنہ 2015 میں قائم کئے گئے ’مانو آرٹس اینڈ سائنس کالج فار وومن‘ میں امسال چار مضامین بشمول اسلامک اسٹیڈیز، اکنامکس، انگریزی اور اردو میں ریگیولرپوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ پروگرام شروع کئے گئے ہیں جن میں داخلوں کا اعلامیہ جاری ہوچکا ہے۔

کالج کے پرنسپل و انچارج ظہور احمد گیلانی کے مطابق خواتین کو بذریعہ تعلیم بااختیار بنانے اور اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لئے قائم کردہ آرٹس اینڈ سائنس کالج میں ملک کی دیگر جامعات کے مقابلہ میں داخلوں کی شرائط اور فیس نہایت مناسب اور معقول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی جی پروگراموں میں کسی بھی مسلمہ ادارے سے گریجویشن یا یونیورسٹی سے الحاق شدہ مدارس سے فارغ ہونے والے خواہش مند طالب علم آن لائن یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر داخلہ فارم جمع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی جی کورسوں میں داخلہ میرٹ کی بنیاد پردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ ڈی پروگراموں میں داخلہ لینے کے خواہش مند طلاب بھی یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر داخلہ لینے کی اہلیت اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

ظہور گیلانی نے مزید کہا کہ امسال یونیورسٹی نے ملک کے 208 مدارس جن میں جموں وکشمیر کے 6 مدارس بھی شامل ہیں، کے فارغین کو مختلف کورسوں میں داخلہ لینے کے اہل قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ بڈگام میں سیٹلائٹ کیمپس کا بنیادی ڈھانچہ تیار ہونے تک اردو کالج کی تعلیمی سرگرمیاں سری نگر کے باغات برزلہ علاقے میں واقع مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صحن میں واقع عمارتوں میں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سیٹلائٹ کیمپس کا بنیادی ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد مذکورہ کالج کو سری نگر سے بڈگام منتقل کیا جائے گا۔ جموں وکشمیر ملک کی واحد ایسی ریاست ہے جہاں اردو کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے مگر کسی بھی تعلیم ادارے میں اردو ذریعہ تعلیم نہیں ہے جس کی وجہ سے اردو کالج میں ریگیولر پی جی کورسز شروع کئے جانے کو یہاں زبردست اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

اگرچہ اردو یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کا 28 مئی 2013 ء کو وسطی ضلع بڈگام کے پاٹواو علاقہ میں سنگ بنیاد رکھا گیا تھا لیکن یونیورسٹی حکام کے مطابق کچھ پروسیجرل مسائل کی بناء پر تعمیراتی کام کے شروع ہونے میں چار سال کی طویل تاخیر ہوئی۔ دسمبر 2010ء میں کشمیر میں سیٹلائٹ کیمپس قائم کرنے کے اعلان کے بعد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے اُس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر محمد میاں کی مئی 2011ء میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر عبدالغنی ملک کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی ۔

پروفیسر میاں نے 26جون 2012ء کو سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے یونیورسٹی کا سیٹلائٹ کیمپس قائم کرنے کے لئے بڈگام میں زمین فراہم کرنے کا فیصلہ لیا ہے اور جوں ہی زمین فراہم ہوگی تو تعمیراتی کام شروع ہوگا۔ پروفیسر میاں کی پریس کانفرنس کے کچھ ماہ بعد ہی حکومت کی جانب سے پاٹواو بڈگام میں 100کنال اراضی کا قبضہ یونیورسٹی کومنتقل کرنے سے متعلق خبر سامنے آئی تھی جس سے ریاست کے اردو شناس لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

خیال رہے کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے موسوم قومی اردو یونیورسٹی کا قیام 1998 میں پارلیمانی قانون کے تحت حیدرآباد شہر میں عمل میں آیا۔ یہ یونیورسٹی روایتی اور فاصلاتی دونوں طریقوں پر پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم فراہم کرتی ہے جبکہ اردو زبان کی ترقی و ترویج اور تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اسے نیک نے ایک بار پھر گریڈ اے سے نوازا ہے۔ اردو یونیورسٹی کی طرف سے وادی میں پہلے ہی علاقائی مرکز سری نگر کی بدولت طلباء کو فاصلاتی طرز تعلیم فراہم کی جارہی ہے اورکالج آف ایجوکیشن کی بدولت تدریس کو بحیثیت کیرئیر بنانے والے خواہش مند طلباء کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز