مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع میں کیمپس کی جلد تعمیر کا اعلان

Aug 11, 2017 06:24 PM IST | Updated on: Aug 11, 2017 06:24 PM IST

سری نگر: جنوبی ہندوستان کے شہر حیدرآباد میں قائم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) نے اعلان کیا ہے کہ وسطی کشمیر کے قصبہ بڈگام میں یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کی تعمیر کا کام عنقریب شروع کیا جائے گا۔ اس اعلان کے ساتھ وادی میں اردو یونیورسٹی کے کیمپس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر گذشتہ 4 برسوں سے جاری تعطل کے ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ بڈگام کیمپس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام شروع کرنے کے سلسلے حیدرآباد سے یونیورسٹی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد وادی کے دورے پر آیا ہوا ہے، جہاں اس وفد نے متعلقین کے ساتھ میٹنگوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

یونیورسٹی کے علاقائی ناظم اور انچارج سیٹلائٹ کیمپس کشمیر ڈاکٹر اعجاز اشرف نے بتایا کہ حیدرآباد سے ڈین آف (بیرون) کیمپسز پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ کی سربراہی والے تین رکنی وفد نے گذشتہ دو دنوں کے دوران کیمپس کی اراضی کا معائنہ کرنے کے علاوہ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ اور ممبر اسمبلی سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وفد میں پروفیسر رحمت اللہ کے علاوہ جوائنٹ رجسٹراراظہر حسین خان اور یونیورسٹی میں سی پی ڈبلیو ڈی کے ایگزیکٹیو انجینئر ایس نرسما راؤشامل ہیں۔ ڈین آف کیمپسز پروفیسر رحمت اللہ نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یونیورسٹی ’بڈگام کیمپس‘ میں تعمیری کام جلد شروع کرنے کی متمنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے کیمپس کی دیواری بندی ، باب الداخلہ اور گارڈ روم کی تعمیر کا کام پہلے ہی سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) کو تفویض کردیا ہے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع میں کیمپس کی جلد تعمیر کا اعلان

پروفیسر رحمت اللہ نے بتایا کہ کیمپس کی اراضی تک قابل استعمال سڑک رابطہ اور بجلی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے کام شروع کرنے میں تاخیرہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ بڈگام محمد ہارون ملک اور ممبر اسمبلی آغا سید روح اللہ مہدی نے کیمپس تک بہتر روڑ کنک ٹیوٹی ، بجلی سپلائی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

پروفیسر رحمت اللہ نے بتایا کہ یونیورسٹی کی طرف سے وادی میں سنہ 2015 میں قائم کئے گئے ’مانو آرٹس اینڈ سائنس کالج فار وومن‘ کی تعلیمی سرگرمیاں فی الوقت سری نگر کے باغات برزلہ علاقے میں واقع مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صحن میں واقع عمارتوں میں چلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا ’ اس کالج کو تاہم عنقریب سری نگر سے بڈگام منتقل کیا جائے گا اور اس کے لئے موزون عمارت کو منتخب کرنے کے لئے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے۔ یونیورسٹی نے امسال ’مانو آرٹس اینڈ سائنس کالج فار وومن‘ چار مضامین بشمول اسلامک اسٹیڈیز، اکنامکس، انگریزی اور اردو میں ریگیولرپوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ پروگرام شروع کئے ہیں جن میں داخلوں کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔

ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے موسوم قومی اردو یونیورسٹی کا قیام 1998 میں پارلیمانی قانون کے تحت حیدرآباد شہر میں عمل میں آیا۔ یہ یونیورسٹی روایتی اور فاصلاتی دونوں طریقوں پر پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم فراہم کرتی ہے جبکہ اردو زبان کی ترقی و ترویج اور تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اسے نیک نے ایک بار پھر گریڈ اے سے نوازا ہے۔ اردو یونیورسٹی کی طرف سے وادی میں پہلے ہی علاقائی مرکز سری نگر کی بدولت طلباء کو فاصلاتی طرز تعلیم فراہم کی جارہی ہے اورکالج آف ایجوکیشن کی بدولت تدریس کو بحیثیت کیرئیر بنانے والے خواہش مند طلباء کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وسطی ضلع بڈگام کے پاٹواو علاقہ میں 100 سے زائد کنال سرکاری اراضی پر بننے والے ملک کی واحد قومی اردو یونیورسٹی کے سیٹ لائٹ کیمپس کا سنگ بنیاد 28 مئی 2013 ء کو اُس وقت کے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل ڈاکٹر ایم ایم پلم راجو اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رکھا تھا، لیکن تب سے لیکر اب تک کیمپس کے اندر کوئی تعمیراتی کام شروع نہیں کیا گیا جس کے باعث وادی میں اردو کے شیدائیوں اور اس زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلاب میں مایوسی پیدا ہوئی تھی۔ تاہم اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے رواں برس مارچ کے اوائل میں یو این آئی کے ساتھ ایک ای میل انٹرویو میں کہا کہ یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کشمیر میں تعمیر کا کام عنقریب شروع کیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز