تین طلاق پر پابندی سے مسلم خواتین پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے : جماعت اسلامی ہند

جماعت اسلای ہند کے امیر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ تین طلاق پر پابندی سے مسلم خواتین پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

May 11, 2017 07:46 PM IST | Updated on: May 11, 2017 07:46 PM IST

نئی دہلی: جماعت اسلای ہند کے امیر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ تین طلاق پر پابندی سے مسلم خواتین پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق پر پابندی مسلم خواتین کو کوئی فائدہ پہنچائے گا۔ جماعت اسلامی ہند کے ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا عمری نے کہا کہ تین طلاق کو کا لعدم قرار دیا جاتا ہے تو بھی اگر کوئی اپنی بیوی کو پریشان کرنا چاہے تو ان پابندیوں کے باوجود وہ ایسا کر سکتا ہے اور انہیں ازدواجی حقوق سے محروم کر سکتا ہے۔ ان پابندیوں سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور خواتین کا وقار زد میں آئے گا۔ مولانا عمری نے واضح طور پر اپنے الفاظ دہرائے کے مسلم معاشرے میں طلاق کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا کہ بتایا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار سے ثابت ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کا تناسب بہت کم ہے اور شور ایسا کیا جا رہا ہے جیسا کہ ہر گھر سے طلاق طلاق طلاق کی آوازیں آ رہی ہوں۔

مولانا نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ پورے ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے گائے کو قومی جانور تسلیم کرنے کا اعلان کرے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی ملک گیر ہونی چاہئے اور گائے جس حالت میں بھی ہو اس کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے۔ انہوں نے جمعیۃ العلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے اس سلسلے میں کئے گئے مطالبے کی پرزور حمایت کی۔

تین طلاق پر پابندی سے مسلم خواتین پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے : جماعت اسلامی ہند

مولانا جلال الدین انصر عمری، فائل فوٹو

واضح رہے کہ کل ہی ایک پریس کانفرنس میں مولانا مدنی نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ گائے کو’قومی جانور‘قرار دے اور اس کے ذبیحے پر ملک گیر پابندی عائد کرے تاکہ گؤ کشی کے نام پر کی جانے والی غنڈہ گردی بند ہو۔ مسلم پرسنل لا بیداری مہم کے کنوینر محمد جعفر نے میڈیا کو بتایا کہ جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام پندرہ روزہ کل ہند مسلم پرسنل لا بیداری مہم کامیابی کے ساتھ اختتام پزیر ہوئی۔ ملک کے کئی شہروں میں کاؤنسلنگ سنٹرس اور شرعی پنچایتیں قائم کی گئیں۔ مہم کے دوران جماعت 14.5کروڑ لوگوں تک پہنچنے میں کا میاب ہوئی۔

نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا عمری نے کہا کہ گائے اور ہندوستانی ثقافت کے تحفظ کے نام پر ملک میں جس طرح سے بے گناہ شہریوں کو تشدد کا نشانا بنایا جا رہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ امن و امان قائم رکھنے والی مشینریاں پوری طرح ناکام ہو گئی ہیں ۔ سماج دشمن عناصر کے ذریعہ ملک بھر میں پھیلائی جا رہی لا قانونیت اور انتشار پر انہوں نے اپنے غم و غصے کا اظہارکیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان بد معاش عناصر کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ پولیس اہلکاروں پر تھانوں کے اند ر ہی حملے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پولیس اہلکار خاموشی اور بزدلی کے ساتھ ان کے حملوں کو برداشت کررہے ہیں اور اپنے فرض کے تئیں لا پروائی برت رہے ہیں۔

Loading...

گؤرکشا کے نام پر حالیہ قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو اس لیے ہلاک کر دیا گیا کیونکہ ان کا تعلق ایک خاص فرقہ سے تھا۔ جماعت سمجھتی ہے کہ پچھلے تین سالوں میں نفرت پر مبنی جرائم اور مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف حملوں میں تیزی آئی ہے ۔ جماعت محسوس کرتی ہے کہ اتر پردیش میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حالات نے بد ترین صورت اختیار کر لی ہے۔جماعت کا مطالبہ ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں لا قانونیت کے واقعات پر قد غن لگائیں اور یہ ثابت کریں کہ وہ ملک میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ ہیں۔

نربھیا کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں سپریم کورٹ نے چار مجرموں کے خلاف موت کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے ۔ جماعت ہمیشہ سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اس طرح کے سنگین جرائم کے لیے سخت سے سخت سزا متعین کی جائے۔ کیونکہ اس طرح کے فیصلے مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں میں خوف پیدا کریں گے اور سنگین جرائم کے ارتکاب سے روکیں گے ۔ تاہم اس وا قعے کا افسو س ناک پہلو یہ ہے کہ اہم ملزم صرف اس وجہ سے سزا سے بری ہو گیا کہ وہ کم سن تھا۔ جماعت محسوس کرتی ہے کہ اس طرح کے مجرمانہ فعل کے لیے موجودہ قانون کا جائزہ لیا جانا چاہیے ، تاکہ تکنیکی وجہ سے کوئی ظالم سزا سے بچ نہ پائے، کیونکہ دیگر مجرموں کی طرح وہ بھی ایک ہی طرح کی سزا کا مستحق محسوس ہوتا ہے۔ حال ہی میں اسی طرح کے جرائم کے سلسلے میں ایک فیصلہ ممبئی ہائی کورٹ کا آیا ہے۔ اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ بلقیس بانو کے ایک بیٹے اور اس کے خاندا ن کے کئی افراد کو 2002کے گجرات فساد میں قتل کر دیا گیا تھا اور بلقیس بانوکے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ ممبئی ہائی کورٹ نے بلقیس بانو معاملے میں مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ جماعت امید کرتی ہے کہ اگر معاملے کو سپریم کورٹ میں پیش کیا جاتا ہے تو نربھیا کی طرح بلقیس بانوں کو بھی انصاف ملے گا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز