مولانا کلب صادق کی متنازعہ بابری مسجد ہندو برادران وطن کے حوالے کر دینے کی بالواسطہ صلاح

نئی دہلی۔ ممتاز شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق نے مسلمانان ہند کو کسی بھی بین مذہبی نزاع میں اپنی جیت پر اسلام کی سرخ روئی کو ترجیح دینے کی تحریک دیتے ہوئے آج ایک بار پھر اجودھیا کی متنازعہ عبادت گاہ ہندو برادران وطن کے حوالے کر دینے کی بالواسطہ صلاح دی۔

Oct 31, 2017 07:23 PM IST | Updated on: Oct 31, 2017 07:23 PM IST

نئی دہلی۔ ممتاز شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق نے مسلمانان ہند کو کسی بھی بین مذہبی نزاع میں اپنی جیت پر اسلام کی سرخ روئی کو ترجیح دینے کی تحریک دیتے ہوئے آج ایک بار پھر اجودھیا کی متنازعہ عبادت گاہ ہندو برادران وطن کے حوالے کر دینے کی بالواسطہ صلاح دی۔ انہوں نے آج سے کوئی سو سال قبل مظفر نگر کے قریب ہندووں اور مسلمانوں کے بیچ ایک زمینی تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی ایک عدالت نے بھی تھک ہار کر دونوں فرقوں کو ماورائے عدالت معاملہ طے کر لینے کی صلاح دیدی تھی۔ وہ یہاں ایک بین مذاہب کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

مولانا صادق نے بتایا کہ انگریز جج کی ماورائے عدالت معاملہ سلجھانے کی صلاح پر ہندووں کی متعلقہ جماعت نے اتفاق رائے سے ایک مسلم رہنما کا انتخاب کر کے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ زمین جس کے حوالے کرنے کو کہیں گے زمین اُسی کی ہوگی۔ اُس رہنما نے فیصلہ ہندووں کے حق میں سناتے ہوئے مسلمانوں سے یہ کہا کہ وہ اپنی جیت پر اسلام کی سرخروئی کو ترجیح دیں جو صرف دل جیت کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ سنسکریتی یونیورسیٹی متھرا کے چانسلرپروفیسر سچن گپتا کی صدارت میں منعقدہ اس کانفرنس میں راجہ صاحب محمود آباد نے علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کو مشورہ دیا کہ طلبا اور فارغین کی ایک کل مذہبی جمعیت تشکیل دی جائے جس میں ایک سے زیادہ مذہب کی نمائندگی ہو اور اس جمیعت کو مذاہب کے حوالوں کے بغیر خدمت خلق کی ذمہ داری سونپی جائے تاکہ ایک سے زیادہ مذاہب کے مابین غلط فہمیوں کی بنیاد پر جو دوریاں اور اختلافات ہیں وہ عملاً ختم ہو سکیں۔

مولانا کلب صادق کی متنازعہ بابری مسجد ہندو برادران وطن کے حوالے کر دینے کی بالواسطہ صلاح

ممتاز شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق: فائل فوٹو۔

اس موقع پرپروفیسر سچن نے جہاں خواندگی پر تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے علم کو بہبود کا موثر ذریعہ بنانے پر زور دیا وہیں پروفیسر علی محمد نقوی، مسٹر ظفر محمود،گیانی سریندر سنگھ، سوامی لوکیش منی اور دیگر مختلف مکاتب فکر کے علما اور دانشوروں نے بھی بین مذاہب تفاہم کو وقت کی اہم ضرورت گردانتے ہوئے اس کی بنیاد ، مفہوم، تفاہم بین مذاہب کے اصول، اس کی ضرورت، مذہب عالم کا نقطہ نظر اور سر سید کے نظریئے پر سیر حاصل بحث کی۔ پروفیسر اے آر قدوائی نے کانفرنس کے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز