تین طلاق: سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بورڈ نے کہا، 10 ستمبر تک انتظار کیجئے

Aug 22, 2017 01:24 PM IST | Updated on: Aug 22, 2017 01:34 PM IST

لکھنؤ۔ تین طلاق کے سلسلے میں آج سپریم کورٹ کے فیصلے کا قانونی مطالعہ کرنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 10 ستمبر کو بھوپال میں مجوزہ اجلاس میں غور وخوض کرے گا۔ عدالت عظمی کے فیصلے کے فوری بعد بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگي محلی نے "يواین آئی" کو بتایا کہ 10 ستمبر کو بھوپال میں ہونے والی میٹنگ میں تین طلاق کے سلسلے میں ملک کے قانون کو ذہن میں رکھتے ہوئے شریعت کے دائرے میں کوئی فیصلہ لیا جا سکتا ہے، اگرچہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کا قانونی مطالعہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر بورڈ کا خیال ہے کہ پرسنل لا میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے، لیکن بورڈ بھی چاہتا ہے کہ ملک کے قانون پربھی مکمل طور عمل کیا جانا چاہیے۔ 10 ستمبر کو بھوپال میں اسلامی اسکالرس اور قانون کے ماہرین بیٹھیں گے۔ مل بیٹھ کر ہی کوئی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے ۔ مولانا فرنگي محلی نے کہا کہ ایک ساتھ تین طلاق کو روکنے کے لیے بورڈ 1970 سے مصروف عمل ہے۔ بورڈ نے بھی مشاورت جاری کی ہے۔ بورڈ مرد وزن کے تنازعات کو باہمی صلح سمجھوتے کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ طلاق کی نوبت ہی نہیں پہنچنی چاہئے۔ بیک وقت تین طلاق کو روکنے کے لئے، بورڈ نے ملکی پیمانے پر مہم بھی چلا رکھی ہے۔ اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔

تین طلاق: سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بورڈ نے کہا، 10 ستمبر تک انتظار کیجئے

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

انہوں نے دعوی کیا کہ طلاق بدعت کے واقعات میں بھی کافی کمی آئی ہے۔ سوسائٹی طلاق بدعت کی روایت کو ختم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اسلام میں خواتین کو اولین درجہ حاصل ہے۔ اسلام میں خواتین کو کافی اختیارات حاصل ہیں۔ خواتین شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے شوہر کے ساتھ پوری رضامندی کے ساتھ رہ سکتی ہیں اور جب باہمی رضامندی ہوگی تو طلاق کا سوال کہاں پیدا ہو گا؟

مولانا خالد رشید فرنگی محلی: فائل فوٹو۔ مولانا خالد رشید فرنگی محلی: فائل فوٹو۔

ادھر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سپریم کورٹ کے احکامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی پہل سے اس سماجی مسائل کے تئیں لوگوں میں بیداری آئی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی فوری طور پر اس پر روک لگاتے ہوئے مرکز کو قانون بنانے کا حکم دیا ہے۔

پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری وجے بہادر پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی خواتین کو با اختیار بنانے کے حق میں ہے۔ پارٹی کی کوششوں سے ہی اس مسئلے پرمعاشرے میں بیداری آئی اور معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔ عدالت کے حکم کے مطابق ایوان اب اس معاملے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی خواہش تو یہ تھی کہ معاشرہ اس معاملے کو اپنے طور پر حل کرے ، لیکن عدالت کے حکم کے مطابق،اب پارلیمنٹ کا کردار اس معاملے میں کافی اہم ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز