بنیادی موضوعات سے لوگوں کا دھیان ہٹا کر انہیں مذہبی ایشوز میں الجھایا جا رہا ہے: مولانا خالد رشید

Oct 13, 2017 07:41 PM IST | Updated on: Oct 13, 2017 07:41 PM IST

 لکھنؤ۔ علماء کرام مانتے ہیں کہ بنیادی موضوعات سے لوگوں کا دھیان ہٹانے اورانہیں مذہبی ایشوز میں الجھانے کے لئے ایودھیا سمیت ایسے ایشوز اچھالے جا رہے ہیں جن سےعوام گمراہ ہو کرحکومت سے بنیادی مسائل پر سوالات نہ کرسکیں۔ ایودھیا میں سریو کے کنارے رام چندر جی کا مجسمہ نصب کئے جانے کا معاملہ بھی موجودہ ریاستی حکومت کی منصوبہ بند حکمت عملی کا شاخسانہ ہے، لہٰذا اس سے پریشان ہوکر کسی رد عمل کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔

مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کہنا ہے کہ تین طلاق، کامن سول کوڈ، چائلڈ میرج ، گئو کشی ، مندر تعمیر اوراب ایودھیا میں سریو کے کنارے بھگوان رام کے مجسمے کے  نصب کئے جانے کا منصوبہ۔ موضوعات کا ایک تسلسل ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ بڑھتی مہنگائی اور نوٹ بندی سے لے کر جی ایس ٹی کے نفاذ تک ایک کے بعد ایک صورت حال خراب ہوتی نظرآئی تو ایک نیا مدعا اچھال دیا گیا اورلوگ بنیادی موضوعات سے ہٹ کرمذہبی دھاگے سلجھانے میں لگ گئے ۔

بنیادی موضوعات سے لوگوں کا دھیان ہٹا کر انہیں مذہبی ایشوز میں الجھایا جا رہا ہے: مولانا خالد رشید

مولانا خالد رشید فرنگی محلی

عالم دین قاری یوسف عزیزی کا کہنا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے سب کو اپنے مذہب کو ماننے کی آزادی ہے  لیکن کچھ لوگوں نے مذہب کو سیاسی مفاد کے حصول کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ بار بار یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لوگ بیدار ہو رہے ہیں۔ اب وہ اچھی بری بات سمجھتے ہیں۔ مذہب سے زیادہ انہیں اپنے تحفظ اور ملک کی سلامتی کی فکر ہے۔ لیکن اگر یہ صحیح ہے تو مذہب کے نام پرسیاست کرنے والے لوگ کامیاب کیوں ہوجاتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز