حجاب کے خلاف یوروپی یونین کی عدالت کا فیصلہ مساوات اور آزادی کے منافی : مولانا محمود مدنی

Mar 17, 2017 08:50 PM IST | Updated on: Mar 17, 2017 08:50 PM IST

نئی دہلی : جمعیت علما ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے یوروپی یونین کی اعلی ترین عدالت کے ذریعے حجاب سے متعلق فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی ،مساوات اور آزادی کے خلاف قراردیا ہے۔ واضح ہو کہ وہاں کی عدالت نے یوروپی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو اسلامی طرز کے اسکارف سمیت ہر اس شئے کے پہننے پر پابندی عائد کرسکتی ہیں جس سے کسی خاص مذہب یا سیاسی نظریات کا پرچار ہوتا ہو ۔مولانا مدنی نے اس سلسلے میں برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کے اس بیان کی تائید کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ خواتین کیا پہنیں اور کیا نہیں ، یہ بتانا حکومت کا کام نہیں ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم نے درحقیقت اس سچائی کواجاگر کیا ہے کہ اگر مغرب میں خواتین، آزادی اور برابری کا حق رکھتی ہیں تو پھر صرف ایک طبقہ ہی کیوں آزاد ی کا فائدہ اٹھائے ور دوسرے طبقے کی آزادی سلب کرلی جائے ؟

مولانا مدنی نے دیگر یوروپی ممالک کو متوجہ کیا ہے کہ وہ برطانوی وزیر اعظم کی اس مثبت اور تعمیری فکر کو اپنا کر یوروپ میں اقلیتوں کے تئیں متشدد اور لادین عناصر کے جارحانہ افکار واقدامات پر قد غن لگائیں ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یوروپ جو انسانی اقدار ، آزادی اور برابری کے سب سے بڑے علم بردار ہو نے کا دعوی کرتا ہے ، وہاں کی عدالت سے اس طرح کے فیصلے کی امیدنہیں تھی ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ دنیا کے ہر کونے میں مٹھی بھر تشدد پسند اور متعصب افراد ہیں ،جو اسلامی شناخت کے حوالے سے حجاب اور مسلم خواتین کے طرز انتخاب کو نشانہ بناتے ہیں، حالیہ دنوں میں ایسے واقعات زیادہ ہورہے ہیں، ا یسی صورت میں عدالت کی جانب سے اس طرح کے فیصلے آنے سے نسلی بنیاد پر تعصب او رامتیازی سلوک میں مزید اضافہ ہو نے کا خطر ہ ہے ، نیز ایسی سوچ اور فیصلوں سے یوروپ میں رہ رہے مسلمانوں کا اعتماد متزلزل ہوگا۔

حجاب کے خلاف یوروپی یونین کی عدالت کا فیصلہ مساوات اور آزادی کے منافی : مولانا محمود مدنی

فائل فوٹو

مولانا مدنی نے امید ظاہر کی ہے کہ یورو پ اور مغربی ممالک کے سنجیدہ افراد اور حقوق انسانی کی علم بردار تنظیمیں کسی خاص تہذیب و روایت کے خلاف چلائی جارہی لادینوں کی منفی تحریک کو ناکام بنادیں گی اور آزادی رائے اور انسانی حقوق کو پامال نہیں ہونے دیں گی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز