مولانا ریاست علی بجنوری اور مولانا محمد ازہرکی وفات دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند سمیت ملت اسلامیہ کابڑا خسارہ : مولانا محمود مدنی

May 25, 2017 07:11 PM IST | Updated on: May 25, 2017 07:11 PM IST

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ دو اہم شخصیات مولانا ریاست علی ظفر بجنوری اور مولانا محمد ازہرؒ رانچی کی وفات دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند سمیت پوری ملت اسلامیہ کے لیے بڑا خسارہ ہے ۔یہ بات انہوں نے ان دونوں شخصیات کے لئے منعقدہ تعزیتی اجلاس میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ تعزیتی اجلاس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مرنے والی شخصیات کی خصوصیات کا تذکرہ کیا جائے تاکہ ہم ان سے رہ نمائی حاصل کریں۔مولانا مدنی نے کہا کہ موجودہ دور میں ان بزرگوں کے کردار سے روشنی حاصل کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے کہا کہ مولانا ریاست علی ؒ ایک مخلص مشیر اور سادگی کے پیکرتھے ۔مجھے یاد ہے کہ201ٍ3 میں امن عالم کانفرنس دیوبند میں منعقد ہوئی۔مولانا ریاست علیؒ نے بہت ہی جامع بات کہی ’’ اسلام مذہب امن واعتدال ہے اور دیوبندیت مسلک امن و اعتدال ہے ‘‘،یہ جملہ بہت چھوٹا ہے لیکن کافی جامع ہے۔

مولانا ریاست علی بجنوری اور مولانا محمد ازہرکی وفات دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند سمیت ملت اسلامیہ کابڑا خسارہ : مولانا محمود مدنی

مولانا مدنی نے کہا کہ مولانا ریاست علی اور مولانا ازہر دونوں حضرات کے تواضع وانکساری کی میں شہادت دیتاہوں ۔ میں مولانا ازہر ؒ کے جنازے میں تھا ، وہاں بہت بڑا مجمع تھا، لوگ مٹی ڈالنے کے لیے ظہر سے مغرب تک قبرستان آتے رہے ۔یہ دونوں شخصیات جمعےۃ علماء ہندکی نائب صدر تھیں ، آج ہم سے جدا ہوگئیں، جس کے لیے ہم ز یادہ تعزیت کے مستحق ہیں ۔

مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا مولانا ریاست علیؒ سادہ طبع اور مستحکم رائے والے انسان تھے ۔ ان کی تالیف ایضاح البخاری ایسا گراں قدر کارنامہ ہے ، اگر کوئی اور چیز نہ ہوتی تو صر ف یہ کتاب ان کی عظمت ظاہرکرنے کے لیے کافی تھی ۔انھوں نے کہا کہ مختلف مجلسوں میں ان سے گفتگو کا موقع ملا ،میں نے کبھی ان کو زود رائے اور پژمردہ نہیں دیکھا۔ وہ ہمیشہ آخر میں رائے دیتے تھے اور مسکراتے رہتے۔انھو ں نے کہا کہ مولانا ازہر رانچی کی تواضع اور للہیت سے کافی متاثر ہوں ،ان سے جب بھی گفتگو ہوتی تو سلام کے بعد پہلا لفظ ’’اللہ ‘‘کا ہوتا تھا، وہ ہمیشہ دعاء دیتے تھے کہ بھائی اللہ آپ کو خیریت سے رکھے ۔

مولانا سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ مولاناازہر رانچی بہت ہی سادہ اور نیک دل انسان تھے ۔مولانا ریاست علی ؒ ورع اور تقوی کے انسان تھے ،تواضع کا یہ عالم تھا کہ ان کو اگر اعزاز دیا جاتا تو دلی تکلیف ہو تی تھی ، وہ ہمیشہ عہدوں اور مسندو ں سے گریز کرتے تاہم وہ اعلی درجہ کے خود اعتماد تھے۔ مولانا سلمان بجنوری نے ایک واقعہ سنایا کہ ان کے صاحبزادے نے عید کے موقع پر کپڑا کے لیے رقم مانگی ، مگر ان کے پاس نہیں تھی ۔ اگلے دن چند لفافوں میں رقم ڈال رہے تھے ، اسی لڑکے نے دیکھ لیا ، حضرت نے بلایا او رکہا بیٹے تم سے کیا چھپا نا یہ رقم ضرورت مند بیواؤں اور یتیموں کے لیے ہے ، جسے ہرسال عید کے موقع پر دیتا ہوں ، اس بار اپنے پاس نہیں تھی تو بیس ہزار قرض لے کر ان کو دے رہا ہوں ۔

مولانا قاری شوکت علی استاذ دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ مولانا ریاست علی کی شخصیت ہشت پہلو تھی ۔ وہ شخصیت ساز ، خرد نواز اور نفع رساں انسان تھے ، ایضاح البخاری ان کے فکر کی پختگی پر دال ہے ۔اس موقع پر مولانا راشد اعظمی نے دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ان دونوں مرحوم شخصیات کے صاحبزادگان مولانا قاری عدنان ریاست اور مولانا احمد ازہر نے بھی پرسوز خطاب کیا ۔

اس موقع پر مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند نے ایک تجویز تعزیت پیش کی جس میں کہا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوری ؒ اورمولانا ازہر ؒ ( نائبین صدر جمعیۃ علماء ہند) کی وفات حسرت آیا ت پر قلب پر درد اور جگر پرسوزکے ساتھ اظہار قلق کرتا ہے ۔ تجویز میں ان شخصیات کی خوبیوں کا اعتراف اور جمعیۃ کے تئیں ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کی گئی ہے ۔

ان کے علاوہ مفتی شبیر احمد مفتی و محدث جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، مولانا مجیب اللہ قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا رحمت اللہ باندی پورہ رکن شوری دارالعلوم دیوبند، مولانا عبداللہ معروفی استاذ دارالعلوم دیوبند،قاری شوکت علی ویٹ ، مولانا متین الحق اسامہ کانپوری صدر جمعیۃ علماء اترپردیش ، مولانا ابوبکر ناظم اعلی جمعیۃ علماء جھارکھنڈ، مولانا محمد سالم قاسمی مرادآباد ، مولانا عارف جمیل قاسمی دارالعلوم دیوبند، مولانا مفتی ساجدہردوئی دارالعلوم دیوبند،مولانافہیم الدین بجنوری ،مفتی عمران اللہ وغیرہ رانچی وغیرہ نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز