سونیا وہار مسجد انہدام کیس میں قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: مولانا محمود مدنی

Jun 12, 2017 09:08 PM IST | Updated on: Jun 12, 2017 09:08 PM IST

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو ایک مکتو ب ارسال کرکے مطالبہ کیا ہے کہ سونیا وہار مسجد انہدام کیس میں قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اقلیت کوفوری تحفظ فراہم کیا جائے۔ مولانا مدنی نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں دعوی کیا کہ دہلی کے سونیا وہار میں اکثریتی طبقے کے افراد کے ذریعہ مسجد منہد م کرنے اورمقامی مسلم اقلیت کو مار بھگانے کی دھمکی دی گئی ہے جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ اس لئے حکومت اس سلسلے میں فوراً مثبت قدم اٹھائے۔مولانا مدنی نے ارسال کرہ مکتوب میں مسجد کی تعمیر نو کے حکم دیے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

واضح رہے کہ مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے وفد نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا تھا نیز مقامی ذمہ داروں کے ساتھ کئی نشستوں میں میٹنگ بھی ہوئی تھی ۔ مولا مدنی نے خط میں وہاں کے سنگین حالات کی طرف وزیر داخلہ کی توجہ مبذول کرائی ہے ، نیز پولس انتظامیہ کی شکایت کی ہے کہ حادثے سے آٹھ یوم قبل 29 مئی کو اطلاع کے باوجود بھی اس نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نتیجہ یہ ہوا رمضان کے مبارک مہینے میں چند شرارت پسند عناصر نے ان کی عبادت گاہ توڑ دیا، جہاں وہ پنچ وقتہ نماز اور تراویح کا اہتمام کررہے تھے۔مسجد توڑے جانے کے آج پانچ دن بعد بھی وہاں خوف وہراس کا ماحول قائم ہے ، کیوں کہ مقامی پولس اور انتظامیہ ، اقلیت سے عدم تعاون کررہی ہے ۔

سونیا وہار مسجد انہدام کیس میں قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: مولانا محمود مدنی

مولانا محمود مدنی: فائل فوٹو

خیال رہے کہ امبے کالونی میں رہنے والے اور زیر تعمیر مسجد کے ذمہ دار اکبر بھائی اور امام مولانا قطب الزماں نے آج دفتر جمعیۃ علماء ہند پہنچ کر یہ بتایا کہ خوف کی وجہ سے وہاں سے لوگ دوسری جگہ منتقل ہورہے ہیں، ان کی شکایت ہے کہ دہلی جیسے مرکزی شہر میں آج ایک ہفتہ سے ہمارے ساتھ ایسا ہور ہا ہے ،مگر کوئی حساسیت نہیں برتی جارہی ہے ۔مولانا مدنی معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیر داخلہ سے ذاتی طور سے اقدامات کی گزارش کی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز