جمعیۃ کا امن و ایکتا سمیلن : امن و محبت اور بھائی چارہ کو فروغ دینا وقت کی ضرورت : مولانا محمود مدنی

Oct 29, 2017 09:20 PM IST | Updated on: Oct 29, 2017 09:20 PM IST

نئی دہلی : آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام اندراگاندھی انڈور اسٹیڈیم نئی دہلی میں امن و یکتا سمیلن منعقد ہوا ، جس میں ہند و، مسلم ، سکھ اور عیسائی سمیت سبھی مذاہب کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی ۔اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ پڑھا گیا ، جس کے بعد اسٹیڈیم میں موجو د سبھی لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر عہد کیا کہ وہ امن ومحبت کے فروغ کے لیے ہر ممکن جد وجہد کریں گے ۔واضح ہو کہ اعلامیہ میں عہد کیا گیا ہے کہ جہاں کہیں بھی تشدد ، نفرت ، انتہا پسندی اور تفریق پائیں گے ، اس کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے ۔ اعلامیہ میں اس بات پرزورد یا گیا کہ معصوم بچوں،عورتوں اور مردوں پر کسی بھی قسم کا تشدد عملاً یا قولاً،ہندستانیت، انسانیت اور اسلام کے منافی ہے۔اس سمیلن میں جہاں دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء ، اجمیر شریف، گلبرگہ شریف اور سرہند شریف کی اہم شخصیات شریک ہوئیں ، وہیں مشہور ہندو رہنماء سوامی چیدانندسرسوتی،جتھیدار اکال تخت،امرتسرکے سربراہ سنگھ صاحب گیانی گروبچن سنگھ جی،سوامی مترانند جی،اچاریہ لوکیش منی،سدگروبرہمیشاننداچاریہ سوامی جی،بدھشٹ رہنما ڈریکنگ کیابگوں چیٹسانگ رینپوچے جی وغیرہ بھی شریک ہوئے ۔اس سمیلن میں جمعیۃ علما ء ہند کے جشن صدسالہ کے لیے لوگو بھی لانچ کیا گیا ۔

اس موقع پر صدارتی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ فرقہ پرستی اس ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لہذا جمعےۃ علماء ہند تین سطح پر اپنی بات رکھنا چاہتی ہے، سب سے پہلی گزارش تو حکومت سے ہے ، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک میں فرقہ پرستی پھیلانے اور مختلف نفرت انگیز عنوانات کی آڑ میں اقلیتوں، دلتوں یا کمزور طبقات کی زندگی اجیرن بنانے والے تمام افراد اور تنظیموں پر پہلی فرصت میں مکمل پابندی لگائے اور اُن کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے۔ صدر جمعےۃ علما ء ہند نے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ اندھیرنگری جاری رہی اور بے قصور افراد کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہیں، تو ملک ہرگز ترقی کی شاہ راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا،دوسری گذارش تمام سیاسی و فکری قائدین، سماجی تنظیموں اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا سے ہے کہ وہ اپنے سیاسی، ذاتی یا کاروباری مفادات سے اوپر اٹھ کر محبت کے پیغام کو عام کریں، تیسری گزارش ملتِ اسلامیہ کے تمام افراد، اِداروں اور تنظیموں سے ہے کہ موجودہ حالات میں ہرقسم کی مایوسی اور جذباتیت سے اپنے آپ کو بچاکر اسلامی تعلیمات پر پوری طرح کاربند ہوں اور اسلامی روایات کے مطابق تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کا رویہ اختیار کریں ۔

جمعیۃ کا امن و ایکتا سمیلن : امن و محبت اور بھائی چارہ کو فروغ دینا وقت کی ضرورت : مولانا محمود مدنی

جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اعلامیہ پیش کرتے ہو ئے خاص طور سے امن و محبت اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کا عہد کیا ۔ مولانا مدنی نے اسٹیج پر موجود سبھی مذاہب کے رہنماؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں دیوبند بھی موجودہے اور رشی کیش بھی ، یہ ظاہرکرتا ہے کہ اس ملک کی اکثریت امن پسند عوام پر مشتمل ہے ،اگر کوئی ہمارے چمن کو اجاڑنے کی کوشش کرے گا تو اس ملک کی اکثریت ،ایسے لوگوں کے علاج کرنے کی طاقت رکھتی ہے ۔میں ان تمام حضرات کے سامنے یہ کہنا چاہتاہوں کہ ہندستان کے مسلمانو ں کو سب سے بڑی اگر کوئی ضرورت ہے تو ہندو ، سکھ ، عیسائی اور پارسی بھائیوں کی محبت ہے ۔

اس موقع پر مولانا مدنی نے اعلان حق کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات سن لیں کہ ہم اپنے فکرسے ایک انچ بھی نہیں ہٹیں گے اور نہ وطن اور قوم کی عزت کے سلسلے میں کسی قسم کی مصالحت کو روا رکھیں گے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کوئی عناد نہیں ہے، اس کے باوجود بھی بھرم پھیلانے کی جو کوشش کی جارہی ہے ، اسے ہم تمام اہل مذاہب مل کر ختم کریں گے۔ پرمارتھ نکیتن،رشی کیش کے رہنما ء سوامی چیدانند سرسوتی مہاراج نے کہا کہ آج ہم یہاں اس لیے جمع ہو ئے ہیں تاکہ پوری دنیا کو پیغام دیا جائے کہہ ہم سب ایک ہیں اور ہمارا ملک امن وامان کا علم بردار ہے۔انھوں نے جمعیۃ علما ء ہندکی اس امن و ایکتا تحریک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنظیم ہے جو سو سال سے گالیا ں کھا کر بھی گلے لگانے کا کام کرتی ہے ۔

jmait aman ekta

سوامی چیدانند نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد کے غلط اعمال کے لیے اسلام جیسے امن پسند مذہب کو بدنام نہیں کیا جاسکتا ۔انھوں نے کہا کہ اسلام نے ہی دنیا کی ساری مخلوق کو خدا کا ایک کنبہ قراردیا ہے اور سارے انسانو ں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسن اخلاق کی ہدایت دی ہے ۔انھوں نے امید ظاہرکی کہ آج کا یہ جلسہ دلوں کو جوڑنے کا کام کرے گا ۔انھوں نے اس موقع پر ایک ننے پودے کی نمائش کرکے درخت لگانے پر زور دیا ۔جتھے دار اکال تخت،امرتسر کے چیف سنگھ صاحب گیانی گروبچن سنگھ جی نے اپنے خطا ب میں کہا کہ سارے مذاہب امن وانسانیت کی تعلیم پر متفق ہیں اور سارے مذاہب کی بنیاد صرف ایک خداپر ہے ۔انھوں نے ا پنے پیغام میں جمعےۃ کے اس قدم کی تعریف کی اور کہا کہ طوفان میں محبت کا چراغ جلانا ہی اصل بہادری کا کام ہے ۔ سدگروبرہمیشاننداچاریہ سوامی جی نے اس بات پر زور دیا کہ نفر ت کی تعلیم دینے والے ہر دھرم کے دشمن ہیں، انھیں کسی مذہب سے نہ جوڑا جائے بلکہ اختلافا ت کو مشترکہ طور سے حل کیا جائے۔

سوامی مترانند جی،آچاریہ ،چنمیا مشن چنئی نے کہا کہ آج کا یہ سملین پیغام دیتا ہے کہ مذہب ہر گز آپس میں لڑنے جھگڑنے کی تعلیم وترغیب نہیں دیتا ۔ انھوں نے کہا کہ آج کے پروگرام کی تصویر جب دنیا کے سامنے جائے گی ،تو اس کے ذریعہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ بھارت کی سرزمین لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔  معروف عالم دین مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعےۃ علماء ہند نے کہا کہ ہم یہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ نفرت کی سیاست کرنے و الے ملک کے غدار ہیں ، اگر ملک چل سکتا ہے تو صرف پیار ومحبت سے چل سکتا ہے ورنہ ملک تباہ و برباد ہو جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ اگر سرکار چاہتی تو نفرت پھیلانے والوں پر روک لگاسکتی تھی مگر موجودہ سرکار کو ملک کے امن وامان کی کوئی پروا نہیں ہے ۔

jamiat aman ekta

ان کے علاوہ دیگر تمام مقررین نے بھی اس طرح کے سمیلن کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہندستان ہمیشہ سے امن وایکتا کا مثالی ملک رہا ہے ، لہذا اسے باقی رکھنے کے لیے ہر ممکن جد وجہد ضروری ہے ۔ دیگر خطاب کرنے والوں میں خاص طور سے اچاریہ لوکیش منی، دیوان زین العابدین سجادہ نشین درگاہ اجمیر شریف، مولانا جلال الدین عمری جماعت اسلامی ہند، مولانا مفتی سفیان قاسمی مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند، مولانا سعید الرحمن مہتمم دارالعلو ندوۃ العلماء لکھنؤ،مولانا عبداللہ مغیثی،پروفیسر سنکر سانیال جی، نویدحامد،پنڈت این کے شرما جی ،سوامی مترانند جی،آچاریہ ،چنمیا مشن چنئی، سدگرو برہمیشاننداچاریہ سوامی جی، شری کشیترا تپوبپھومی گروپیٹھ گوا ،سنگھ صاحب گیانی گروبچن سنگھ جی،چیف جتھے دار اکال تخت،امرتسر،جناب ڈریکنگ کیابگوں چیٹسانگ رینپوچی جی،سوامی چدانند سرسوتی جی،صدر ،پرمارتھ نکیتن،رشی کیش ،ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق ، پروفیسر اخترالواسع ، مولانا سید حافظ اطہر علی ممبئی ،سید قاسم رسول الیاس، سلمان چشتی ،صدر خواجہ غریب نواز فاؤنڈیشن،اجمیر،کمال فاروقی،ڈاکٹر چندرپال،مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری،مولانا متین الحق اسامہ کانپور ،مفتی افتخار احمد کرناٹک ،مولانا حافظ ندیم احمد صدیقی مہاراشٹرا،مولانا اسرار الحق قاسمی،،مولانا بدر الدین اجمل آسام، اشوک بھارتی نیکڈور ،پروفیسر محسن عثمانی ،الحاج واحد حسین شاہ انگارہ چشتی درگاہ اجمیر شریف،پیغام خسرو میاں،سجادہ نشین، گلبرگہ شریف،سید محمد صادق رضا، سجادہ نشین،درگاہ مجدد الف ثانی ؒ سرہند شریف، پیر خواجہ احمد نظامی سید بخاری درگاہ خواجہ نظام الدین اولیاءؒ ،دہلی، مولانا نیاز احمد فاروقی ، مولانا حکیم الدین قاسمی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے سبھی اراکین مجلس عاملہ و مجلس منتظمہ بھی موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز