عیدقرباں ہم سے شرک وبدعات ، دھوکہ دھڑی، عصبیت اور اخلاقی گراوٹ کے خلاف جذبۂ قربانی کا مطالبہ کرتی ہے : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا موصوف نے ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے قربانی کی تاریخ اور اس کے بنیادی پیغام پر گفتگو کی اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ اسلام کے تاکیدی حکم صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام کیا جائے

Sep 04, 2017 08:21 PM IST | Updated on: Sep 04, 2017 08:21 PM IST

نئی دہلی : قربانی کے جانوروں کا نہ خون اللہ کو پہونچتا ہے اور نہ گوشت بلکہ ہمارا تقویٰ وپرہیزگاری اور اخلاص اللہ کو مطلوب ہے یہ قربانی اگر ہمیں برائیوں، شرک وبدعات، تعصب وعصبیت ، بے پردگی وفحاشی ، ماں باپ کی نافرمانی اور بڑوں کی نا قدری ، جھوٹ اور دھوکہ دھڑی اور اخلاقی گراوٹ سے جنگ کرنے اور زندگی کے تمام گوشوں میں اسلامی تعلیمات کو اپنانے پر آمادہ نہ کرسکے تو صرف ذبیحہ پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ تقویٰ اور پرہیز گاری قربانی کا بنیادی مقصد ہے اور یہ تقویٰ توحید کو اپنائے بغیر ہمیں حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اس تقویٰ کے حصول کے لئے ہمیں اتباع سنت کے تقاضوں ، مساجد کے آداب، نماز کی پابندی اور پورے اسلامی نظام کی پیروی کرنی ہوگی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق حالات حاضرہ میں صبر اور نماز کی پابندی کو اپنا شیوہ بنانا ہوگا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوںجب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تب تک گمراہ نہیں ہوگے۔ وہ دو چیزیں قرآن مجید اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار جنوبی دہلی کی مرکزی عید گاہ جامعہ اسلامیہ سنابل میں ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی مدنی حفظہ اللہ نے ہزاروں مسلمان مردوں اور خواتین سے خطاب کرتے ہوئے عید الاضحی کے خطبہ میں فرکیا۔ مولانا حالات حاضرہ اور مسلمانوں کی صورتحال پر تقریر کر رہے تھے۔

عیدقرباں ہم سے شرک وبدعات ، دھوکہ دھڑی، عصبیت اور اخلاقی گراوٹ کے خلاف جذبۂ قربانی کا مطالبہ کرتی ہے : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا موصوف نے ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے قربانی کی تاریخ اور اس کے بنیادی پیغام پر گفتگو کی اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ اسلام کے تاکیدی حکم صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام کیا جائے کیونکہ عام طور سے قربانی کے جانوروں کے فضلات یوں ہی پھینک دیئے جاتے ہیں ۔ کئی کئی روز تک پورے پورے علاقے میں بدبو اٹھتی رہتی ہے اور دوسری قومیں مسلمانوں کے بارے میں بدظنی قائم کرتی ہیں جبکہ مسلمان کبھی بھی گندگی اور غلاظت کے قریب بھی نہیں جاتا اور صفائی کا خصوصی خیال رکھتا ہے۔ لیکن آج معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔

مولانا موصوف نے وطن عزیز کے حالات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے گورکھپور کے اسپتال میں مسلسل مرنے والے معصوم بچوں کی موت پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اگر حکومتیں ان چیزوں پر قابو پانے میں نا کام ہیں تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے یا اپنی سنجیدہ اصلاح کی ذمہ داری اٹھانی چاہئے ۔ مولانا نے ڈھونگی باباؤں کی بڑھتی شرارتوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے اپیل کی کہ یہ ڈھونگی کسی بھی مذہب کے ہوں ان کے خلاف مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیںکیونکہ ہم اپنی مسلم یا غیر مسلم بہنوں کی آبرو کے ساتھ کھلواڑ کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔

مولانا نے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں نام نہاد مفتیوں پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ اسلام ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کرتا ہے لیکن ہم نے خواتین کے حقوق کو کھلواڑبنا کر رکھ دیا ہے اور پھر حلالہ جیسے ملعون عمل کے ذریعہ ان کی عزت وآبرو کے ساتھ بھی کھلواڑ کرکے اپنی بے حیائی اور بے غیرتی کا ثبوت بھی دیتے ہیں۔ ہم نے محض اپنی مروجہ فقہ کی بنیاد پر ایک مجلس کی تین طلاق کو تین شمار کرکے اپنی بے غیرتی کا ثبوت پیش کیا ہے جبکہ اسلام اسے ایک ہی شمار کرتا ہے اور خواتین کو خلع کا اختیار دیتا ہے لیکن ہم خلع پر گفتگو ہی نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔

مولانا محترم نے روہنگیا (برما)کے مسلمانوں کے لئے دعائیں کیں اور فلسطین پر اپنی تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کے لئے دعا کی اپیل کی اور حرمین شریفین نیز حج وعمرہ کے انتظامات کو سعودی حکومت سے ہٹا کر بعض دوسرے ممالک کے حوالہ کرنے کے مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دے کر حج جیسی مقدس عبادت پر سیاست کرنے والوں کی سختی کے ساتھ تردید کی اور فرمایا کہ سعودی حکومت کے مد مقابل چاہے بہت سے ممالک بھی وہاں کے انتظامات کی ذمہ داری لے لیں تو بھی تنہا سعودی حکومت کے برابر انتظامات نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ان کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو لیکن توحید وسنت کا جو طاقتور ہتھیار ہے وہ کسی کے پاس نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز