صحابۂ اور آل بیت سے محبت ایمان کا لازمی جزو ، ان سے بغض ونفرت نیز تنقید اور طعن وتشنیع واضح کفر: مولانا محمد رحمانی مدنی

اللہ رب العالمین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے ساتھیوں کو بذات خود منتخب فرمایا۔صحابۂ کرام وہ عظیم اور مقدس ہستیاں ہیں حنہوں نے نبی آخرالزماں کی تربیت اور صحبت کابلند مقام حاصل کیا ۔

Sep 22, 2017 08:29 PM IST | Updated on: Sep 22, 2017 08:29 PM IST

نئی دہلی:اللہ رب العالمین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے ساتھیوں کو بذات خود منتخب فرمایا۔صحابۂ کرام وہ عظیم اور مقدس ہستیاں ہیں حنہوں نے نبی آخرالزماں کی تربیت اور صحبت کابلند مقام حاصل کیا ۔ کسی صحابی رسول نے اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہ بھی کی ہو بلکہ صرف حجۃ الوداع کے موقع سے دور سے آپ کو دیکھ کر آپ کی مبارک باتیں سنی ہو تو وہ بھی دنیا کی تمام ہستیوں، محدثین، فقہاء،ائمہ اور مفتیوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے ، کوئی غیر صحابی اس کے پیر کی دھول کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔ان لوگوں نے نبی کی صحبت میں رہ کر نہ اپنے مال کی پرواہ کی اور نہ جان کی بلکہ صرف دین کی دعوت وتبلیغ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا، وہ لوگ اللہ کی اختیار کردہ جماعت تھے،ان کے علم میں گہرائی تھی، وہ تکلفات سے بالکل عاری تھے، نیک اور صاف دلوں والے اور دین کی خدمت اور شریعت کا قیام کرنے والے لوگ تھے، ان کی مثال دنیا کی کسی بھی قوم میں نہیں مل سکتی۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر عمومی جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ،جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا اہل بیت اور صحابۂ کرام سے محبت کے موضوع پر تفصیلی تقریر کررہے تھے۔مولانا نے صحیح بخاری کی حدیث کی روشنی میں کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اصحاب صفہ میں سے تقریبا ستر ایسے صحابہ دیکھے ہیںجن کے پاس پہننے کا کپڑا نہیں ہوتا تھا، اگر تہبند کے طور پر ایک چادر ہوتی تو اوپر اوڑھنے کی دوسری چادر نہیں ہوتی تھی اور اسی ایک چادر کو وہ لوگ سمیٹ کر پکڑے رہتے تھے کہ کہیں بے پردگی نہ ہوجائے، وہ لوگ بھوکے اور پیاسے رہتے تھے لیکن دین کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ہمیں ان کا بھر پور احترام کرنا چاہئے اور ان سے محبت کا اعلان اور اظہار کرنا چاہئے کیونکہ یہی ایمان کا لازمی تقاضہ ہے اور ان لوگوں سے بغض ونفرت یقینا کفر کی علامت ہے۔

صحابۂ اور آل بیت سے محبت ایمان کا لازمی جزو ، ان سے بغض ونفرت نیز تنقید اور طعن وتشنیع واضح کفر:  مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا نے یہ بھی کہا کہ آج اہل بیت کے بہانے سے نہ جانے کون کون سی چیزوں کو رواج دیا جارہا ہے اور بہت سے لوگ اپنی مرضی سے جس کو چاہتے ہیں اہل بیت میں شامل کرتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں نکال دیتے ہیں، یہاں تک کہ امہات المومنین کو بھی آل بیت سے خارج سمجھا جاتا ہے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیٹیوں کو بھی اہل بیت میں شمار نہیں کیا جاتا۔مولانا نے فرمایا کہ یہ صریح ظلم اور ناانصافی ہے، اس سے اور اس انداز فکر سے امت کو پاک کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ ہمارے عقیدے اور ایمان کا مسئلہ ہے۔

مولانا موصوف نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا تذکرہ بھی کہا اور عثمان رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنے والوں پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس صحابی کی زوجیت میں یکے بعد دیگرے اپنی دو بٹیاں دی ہوں اور جس سے فرشتے بھی حیا کرتے رہے ہوں آخر آج ان کے فضائل کچھ لوگوں کو ہضم کیوں نہیں ہوتے؟ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ خلفائے راشدین، حسن وحسین، امیر معاویہ اور ان کی اولاد اور دیگر تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام سے متعلق اپنے ایمان کو پختہ کیا جائے اور ان لوگوں کے بارے میں کینہ اور نفاق رکھنے والوں سے دھوکہ کھا کراپنے ایمان اوراسلام کو ضائع نہ کیا جائے۔کیونکہ حقیقت میں یہی وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مانتے تھے۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز