پیغمبر اسلام چمکتا سورج اور روشنی بکھیرتے چاند ستاروں کی مانند نبی تھے : مولانا محمد رحمانی مدنی

رب العالمین نے آپ کی تربیت کے خود انتظامات کئے اور چالیس سال سات ماہ کی عمر میں غار حرا میں پہلی وحی کے نزول کے ساتھ آپ کو نبوت کے تاج سے سرفراز کیا گیا

Nov 17, 2017 08:41 PM IST | Updated on: Nov 17, 2017 08:41 PM IST

نئی دہلی:۹؍ربیع الاول عام الفیل کا پہلا سال تھا، سوموار کا دن اور فجر کے بعد دنیا میں صبح کی ٹھنڈی اور پرسکون روشنی بکھر رہی تھی اسی موقع سے ۲۲؍اپریل ۵۷۱ء کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ جیسی مقدس سرزمین اور قریش جیسے عظیم خاندان میں آپ کی ولادت ہوئی، والد کی وفات پیدائش سے قبل ہی ہوچکی تھی، آپ کو بنوسعد قبیلہ کی حلیہ سعدیہ نے دودھ پلایا، آپ چار سال کی عمر کے تھے کہ اچانک رب کائنات کے حکم سے فرشتوں نے آپ کا سینہ چاک کرکے دل کو نکالا اور سونے کے برتن میں رکھ کر آب زم زم سے غسل دے کر دنیاوی آلائشوں سے پاک کیا۔رب العالمین نے آپ کی تربیت کے خود انتظامات کئے اور چالیس سال سات ماہ کی عمر میں غار حرا میں پہلی وحی کے نزول کے ساتھ آپ کو نبوت کے تاج سے سرفراز کیا گیا اور سب سے پہلا پیغام دے کر پوری امت اسلامیہ کے لئے تعلیم کے حصول کی اہمیت کو واجب قرار دے دیا گیا۔۲۱؍رمضان سوار کے دن آپ پر پہلی وحی کا نزول ہوا،یہ اگست کے ماہ کی دس تاریخ تھی اور ۶۱۰ء کا سنہ تھا۔

تیس سالہ دور نبوت گزرنے کے بعد۱۲؍ربیع الاول سنہ ۱۱ھ مطابق ۶۳۲ء سوموار کے دن چاشت کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت اسلامیہ بلکہ پوری دنیائے انسانیت کو داغ مفارقت دے گئے، وفات کے وقت آپ کا مبارک سرآپ کی سب سے زیادہ قریب اور راز دار اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی چند جھلکیاں بیان فرمایا رہے تھے۔

پیغمبر اسلام چمکتا سورج اور روشنی بکھیرتے چاند ستاروں کی مانند نبی تھے :  مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

مولانا نے سورۂ الم نشرح،سورۃ القمر اور سورۂ احزاب کی بعض آیات کی روشنی میں عظمت سیرت رسول کی وضاحت فرمائی اور واضح کیا کہ اللہ تعالی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاد ہی میں مکہ مکرمہ کو حرمت والا شہر قرار دیا اور اسے جغرافیائی لحاظ سے بھی دنیا کا اہم ترین شہر بنایا، وہاں شکارکرنے اور پیڑ پودوں کو کاٹنے سے منع کیا، غیرمسلموں کے داخلہ کو ممنوع قرار دیا، آب زم زم جیسا صاف شفاف مقدس پانی جاری کیا اور ابراہیم علیہ السلام سے لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پورے سلسلہ کو توحید کی بنیاد پراس سے وابستہ رکھا۔

مولانا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کے بہت سے پہلو واضح کرکے مسلمانوں سے انہیں اپنانے کی اپیل کی اور اتباع رسول سے متعلق مسلمانوں کی غیروں کی تقلید اور سیرت رسول اورآپ کی اتباع کو نظر انداز کرنے کے جرم پر اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ہمیں سیرت رسول کی روشنی میں اپنی زندگی کے تمام گوشوں چاہے وہ عادات واطوار سے متعلق ہوں یا احکام وعقائد سے متعلق میں رہنمائی حاصل کرنی چاہئے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم خود اتباع رسول میں شدید کوتاہی کا شکار ہیں جس کے نتیجہ میں دنیا میں مسلسل توہین رسالت کے واقعات بھی نمودار ہورہے ہیں اور دین سے دوری اور دشمنی کا عنصر بھی پنپ رہا ہے اس وجہ سے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا چاہئے اور دین حنیف کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز