برکتوں کے موسم بہارماہ نزول قرآن رمضان المبارک کا بھرپور استقبال کرکے ہمیشہ کے لئے اپنی اصلاح کا عزم کریں: مولانا محمد رحمانی مدنی

May 26, 2017 08:55 PM IST | Updated on: May 26, 2017 08:55 PM IST

نئی دہلی : اللہ رب العالمین نے رمضان کے مبارک مہینہ کو ہمارے لئے بڑی رحمت اور برکت والا مہینہ بنایا ہے، یہ مہینہ بڑی عظمتوں والا ہے، اسی میں قرآن مجید کا نزول ہوا اور اسی مہینہ میں عزت والی بابرکت رات بھی رکھی گئی ہے۔ اس عظیم مہینہ میں نوافل اور واجبات کے ثواب کو کئی کئی گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، رمضان کے روزوں کا اہتمام کرنے والوں کے لئے جنت میں خاص دروازہ رکھا گیا ہے اور اللہ رب العالمین اس ماہ کے روزوں کا بدلہ بذات خود عطا فرمائے گا۔اور رب کائنات کو روزہ دار کے منہ کی بومشک عنبر سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم رمضان کے مہینہ میں تو نمازوں اور دیگر عبادات کا اہتمام کرتے ہیں اور باقی کے پورے سال میں سستی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس وجہ سے شاید ہمارے رمضان کے اعمال بھی نیت کی کمزوری اور حقیقی تبدیلی اختیار نہ کرنے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں ، جب کہ رمضان کے بنیادی مقصد تقوی کا یہی تقاضہ ہے کہ ہم ہمیشہ کے لئے حقیقی مسلمان بننے کا سچا عزم کریں۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا، مولانا رمضان کے فضائل اور اس کے احکام ومسائل پر خطاب فرما رہے تھے۔

برکتوں کے موسم بہارماہ نزول قرآن رمضان المبارک کا بھرپور استقبال کرکے ہمیشہ کے لئے اپنی اصلاح کا عزم کریں: مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا نے رمضان کے احکام ومسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے درج ذیل امور بیان کئے۔ صبح صادق سے غروب آفتاب تک بھوکا پیاسا اور روزہ کے مسائل کا مکمل خیال کرنے کو روزہ کہتے ہیں۔ ۲۹؍ شعبان کو رویت ہلال کا اہتمام کیا جائے، اگر اس دن چاند نہ دکھے تو تیس دن پورے کئے جائیں، اور چاند دیکھ کر چاند کی دعا پڑھی جائے۔چاند کی رویت ہر ہر علاقہ کے لحاظ سے الگ ہوگی اور مکہ مکرمہ کی رویت کا مسافت بعیدہ پر اعتبار درست نہیں ہوگا کیونکہ دلائل اس کے خلاف ہیں اور نہ ہی یہ عقلی لحاظ سے ممکن ہے۔روزہ کی نیت دل کے ارادہ کا نام ہے اس کے لئے مروجہ الفاظ کا قرآن وسنت سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا سنت رسول ہے اور باعث برکت بھی ، اس سلسلہ میں احتیاط کا حیلہ شریعت کے خلاف ہے۔ افطار کی دعا وہی ہے جو سنت سے ثابت ہے، اس سلسلہ میں مروجہ دعائیں درست نہیں ہیں لہذا’’ ذہب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء اللہ‘‘ (ابوداؤد) ہی پڑھی جائے۔ مسافر اور مریضوں نیز دودھ پلانے والی اور حاملہ عورتوں کے لئے روزہ کی رخصت رکھی گئ ہے۔وہ بعد میں قضا کرسکتے ہیں اور فدیہ ادا کرسکتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ رکعت تراویح سے زیادہ ثابت نہیں ہے۔لہذا دلیل کا اعتبار کیا جانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں ہمارے لئے حرمین کا عمل یا کسی کا قول یا کوئی کمزور حدیث دلیل نہیں ہوسکتی ۔ناک یا منہ سے سیال چیز کے حلق تک چلے جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ہوش کی حالت میں منی خارج کرنا ، جان بوجھ کر قے کردینا، صوم کی نیت کو توڑ دینا، ناک یا منہ میں مبالغہ کے ساتھ پانی چڑھا نا یا یہ سمجھ کر کچھ کھالینا کہ غروب ہوچکا یا طلوع فجر کے بعد بھی کچھ کھا پی لینا یہ سمجھ کر کہ ابھی طلوع نہیں ہوا ہے۔ان امور سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔مسواک یا ٹوتھ برش کرنے، گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لئے سر پر یا جسم پر پانی ڈالنے، خوشبو، تیل یا دھوئیں کے ذریعہ خوشبو یا کوئی ضرورت پورا کرنے، نبولائزر یا انہلر وغیرہ کے استعمال یا بوقت ضرورت احتیاط کے ساتھ کھانا چبانے یا چکھنے سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز