دین اسلام کی عظیم نعمتوں کو پہنچانے اور ہمیں حقیقی انسان بنانے میں صحابۂ کرام کا امت اسلامیہ پر سب سے عظیم احسان : مولانا محمد رحمانی مدنی

Sep 15, 2017 06:36 PM IST | Updated on: Sep 15, 2017 06:36 PM IST

نئی دہلی: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم تربیت میں پرورش پانے والے صحابہ کرام ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں، صحابہ کرام اور آل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی احترام ہر مسلمان کا واجبی فریضہ اور ایمان کاجزء لاینفک ہے، صحابہ کرام نے اپنا مال اور اپنی جان سب کچھ دین کے لئے قربان کردیا، آج ہمارے پاس جو بھی تعلیمات ہیں وہ سب صحابہ کرام کی محنت اورجستجو کا ثمرہ ہیں ۔ان لوگوں نے فاقہ کیا ، شہید ہوگئے، اپنے ایمان کی حفاظت اور دین کو آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لئے انہوں نے ساری مشکلات اور بے سروسامانی کے باوجود اپنا سب کچھ قربان کردیا۔انھیں لہو لہان کیا گیا،ان کا بائیکاٹ کرکے انہیںشعب ابی طالب میں محصور کردیا گیا،گردنوں میں رسی ڈال کر انہیں گھسیٹا گیا،بعض صحابیات کی شرمگاہوں میں نیزہ مار کر انہیں ہلاک کردیا گیا، آل یاسر نے ساری مشکلات برداشت کیں ، بے شمار قربانیاں ان لوگوں نے امت اسلامیہ کے لئے بالخصوص اور پوری انسانیت کے لئے بالعموم پیش کیں، ان لوگوں نے صرف اسلام اور مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے تحفظ کویقینی بنایا اور غربت ومفلسی کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے، ان کے اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج ان کا ایک ایک عمل زندہ ہے اور امت اس پر عمل پیرا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر عمومی مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔مولانا صحابۂ کرام کے مقام اور امت اسلامیہ کے لئے ان کی حرص اور قربانیوں سے متعلق تقریر کررہے تھے۔مولانا نے سورۃ الفتح کی آیت نمبر 29 کی روشنی میں صحابۂ کرام کے مقام پر تفصیلی گفتگو کی ،جس میں اللہ رب العالمین نے صحابۂ کرام کی تعریف اور ان کی بعض شاندار صفات اور خوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ صحابۂ کرام کے احسان عظیم کے تلے پوری امت اسلامیہ کے تمام افراد دبے ہوئے ہیں ۔اس لئے ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہئے اور ان کی عظمت واحترام اور ان کے دفاع کا بھر پور اہتمام کیا جائے۔اللہ رب العالمین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کرام سے مشورہ کرنے کا حکم دیا، ان کے لئے نرم موقف اختیار کرنے کو کہا اور ان کے لئے اپنی رضا مندی کا اعلان بھی قرآن مجید میں کردیا، اس لئے صحابۂ کرام کے حقوق سے متعلق ہمیں حساس ہونا چاہئے۔

دین اسلام کی عظیم نعمتوں کو پہنچانے اور ہمیں حقیقی انسان بنانے میں صحابۂ کرام کا امت اسلامیہ پر سب سے عظیم احسان : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا نے کہا کہ ہمارے لئے یہ ایک ایمانی فریضہ ہے کہ ہم صحابہ کرام سے محبت اور الفت رکھیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہم میں سے بہت سے لوگ اس معاملہ میں کوتاہ ہی نہیں بلکہ مجرم بھی ہیں ۔صحابۂ کرام کو برا بھلا کہنا ، ان کی تکفیر کرنا،ان کے نسب پر طعن وتشنیع کرنا اور بعض صحابۂ کرام پر خلافت یا ملوکیت کو بنیاد بنا کر برا بھلا کہنا اور اسی طرح مسلکی تعصب کی بنیاد پر اپنے مسلک کے خلاف روایت کرنے والے بعض صحابہ کرام کو غیر فقیہ قرار دے کر توہین کا مرتکب ہونا وغیرہ یہ ایسے جرائم ہیں جو اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں ۔اللہ تعالی جن سے راضی ہے اگر ہم میں سے کوئی ان سے ناراضگی یا عداوت کا اظہار کرتا ہے تو یہ یقینا اسلام کی توہین ہے۔

مولانا نے ذی الحجہ کے آخری ایام اورماہ محرم کے قریب ہونے کی مناسبت سے بھی مسلمانوں سے اپیل کی کہ ان ایام کو خرافات کی نذر نہ کردیں بلکہ اسلامی سال کی ابتداء پر اپنی تاریخ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو یاد کیا جائے اور صحابہ کرام کی قربانیوں کے تذکرہ سے اپنی زبانیں معطر کی جائیں کیونکہ یہ صحابۂ کرام نبی آخر الزماں کی صحبت اور تربیت کے عظیم شرف سے مشرف ہوچکے ہیں اور ان کا ایک ایک عمل ہمارے لئے باعث فخر ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز