ہندو مذہب امن پسند مذہب ، لیکن مسلم مسائل اور بابری مسجد پر پرتشدد واقعات غیر انسانی عمل : مولانا محمد رحمانی مدنی

Dec 01, 2017 10:41 PM IST | Updated on: Dec 01, 2017 10:49 PM IST

نئی دہلی :  بابری مسجد کی شہادت پر 25 برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس کی برسی کی تاریخ ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے، مسجد کے انہدام کے نتیجہ میں پورے ہندوستان میں جو قتل وغارت گری ہوئی اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہوں نے غنڈہ گردی کرکے مسجد کو منہدم کیا، 1527 سے 1992 تک مسجد کا وجود اس کے مسجد ہونے کی دلیل ہے، بابر نامہ یا اس دور میں لکھی گئی کتابوں میں کہیں بھی رام جنم بھومی کا کوئی تصور نہیں ہے اور کئی صدیوں تک مسجد کا قائم رہنا اس کے وجود کی دلیل ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ مسجد کا انہدام دہشت گردی کی ایک مثال ہے اور وطن عزیز کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ بھی ۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر،نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ یہاں اقلیات اور ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ ملنا چاہئے وہ بھی ملک کے عزت دار شہری ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جو پارٹیاں مسلمانوں اور اقلیات کے ووٹوں کے ذریعہ اقتدار میں آتی ہیں، وہی اقتدار میں آنے کے بعد ان کے ساتھ ناانصافی کر تی ہیں اور مذہب کے نام پر سیاست کرتی ہیں۔

ہندو مذہب امن پسند مذہب ، لیکن مسلم مسائل اور بابری مسجد پر پرتشدد واقعات غیر انسانی عمل : مولانا محمد رحمانی مدنی

ساتھ ہی ساتھ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہب ایک امن پسند مذہب ہے لیکن مذہب کے نام پر سیاست کا کھیل اور تشدد انتہائی مذموم اور گھناؤنی حرکت ہے، ہندوستان میں جو مذہب کے نام پر سیاست کھیلی جارہی ہے اور خود مسلمانوں کی بعض تحریکات اور تنظیمیں بھی اس کا آلہ کار بن رہی ہیں یہ ناقابل معافی جرم ہے ۔ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اتحاد کا ثبوت پیش کرنا ہوگا اور اپنے اعمال کو درست کرنا ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز