آخرت کے دن اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر یقین رکھنا بھی ایمان کا بنیادی رکن : مولانا محمد رحمانی مدنی

May 14, 2017 01:52 PM IST | Updated on: May 14, 2017 01:52 PM IST

نئی دہلی : مولانا محمد رحمانی مدنی صدر ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ، جوگابائی میں ایمان کے پانچویں اور چھٹے رکن یوم آخرت اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اللہ پر ، فرشتوں پر ، آسمانی کتابوں اور انبیاء پر ایمان کے تعلق سے حساس بنیں کیونکہ ایمانیات کا حق ادا کئے بغیر کوئی بھی کامل مسلمان نہیں ہوسکتا، اس وجہ سے ہمیں اس سلسلہ میں ذمہ دار اور کامل مسلمان بننا ہوگا۔نیز مولانا نےذمہ داری کا ثبوت دینے اور ہر قسم کی کوتاہیوں سے بچنے کی اپیل کی۔

یوم آخرت پر ایمان کا مفہوم ذکر کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ قیامت کے دن نہ باپ بیٹے کا ہوگا اور نہ بیٹا باپ کا ہوگا، وہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا،پہاڑ روئی کے گالے کی طرح سے اڑتے ہوں گے، حاملہ اپنے حمل کو ساقط کردیگی اور دودھ پلانے والی اپنے بچے کو دودھ پلانا بھول جائے گی ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے سورۂ ہود اور قیامت کی علامات پر مشتمل سورتوں نے وقت سے پہلے بوڑھا بنا دیا۔آخرت پر ایمان سے متعلق مندرجہ ذیل چیزوں کا ذکر کیا گیا۔

آخرت کے دن اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر یقین رکھنا بھی ایمان کا بنیادی رکن : مولانا محمد رحمانی مدنی

یہ دنیا فنا ہوجائے گی اور انسان مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس سے دنیاوی زندگی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ عذاب قبر برحق ہے اور قبر میں سوال وجواب بھی کئے جائیں گے۔موت کے بعد کے احوال، قبر کے احوال،قیامت کی علامتوں اور دوبارہ اٹھائے جانے والے دن پر یقین ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔حوض کوثر، میزان، پل صراط،شفاعت، جنت، جہنم اور اصحاب اعراف کے احوال پر ایمان لازمی ہے۔جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب اور قرآن وسنت میں وارد ان تمام چیزوں پر ایمان جوآخرت سے متعلق وارد ہوئی ہیں۔

علاوہ ازیں مولانا موصوف نے ہاتھ کی لکیریں،چاند ستارے اور غیب کی خبروں کا دعوی کرنے اور تعویذ گنڈے اور اس انداز کی بداعتقادی کو تقدیر پر ایمان کے خلاف قرار دیا اور مسلمانوں سے اس سے بچنے کی اپیل بھی کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز