طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے : مولانا محمد رحمانی مدنی

Aug 25, 2017 08:25 PM IST | Updated on: Aug 25, 2017 08:25 PM IST

نئی دہلی : یونانیوں نے خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کیا ، رومیوں نے اسے غلام تصور کیا ، ایرانیوں اور پارسیوں نے اس کی شادی کے لئے محارم تک سے اجتناب نہیں کیا ، چین اور لادینی تہذیب نے عورت کو جگلی زندگی گزارنے پر مجبور کیا، ہندوستان میں اسے اس کے شوہر کے ساتھ ستی کردیا جاتا تھا اور وراثت سے اسے محروم رکھا گیا ، بدھشٹوں نے گوشہ نشینی کا فلسفہ اختیار کرکے عورتوں کو بے یار ومدد گار بناڈالا، بہودیوں نے اسے جہنم کا دروازہ اور نصرانیوں نے ملعون قرار دیا لیکن اسلام نے اسے اونچا مقام دیا اور عزت وتکریم سے نوازا۔لیکن بدقسمتی سے برصغیر میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں عورت کے ساتھ خود مسلمانوں نے جوخراب سلوک کیا ہے وہ خالص غیر اسلامی ہے۔اسے حلالہ کی رائے دینے والے اور اس پر مجبور کرنے والے مجرم ہیں۔اسلام نے حلالہ کو ملعون کہا ہے اور ہم اسے جواز فراہم کرتے ہیں ، ایک جھٹکے میں اس کی عزت وناموس کی دھجیاں بکھیرکر اسے گھر سے باہر کردیا جاتا ہے آخر مسلمان ہونے کی حیثیت سے اگر ہم عورتوں کی تکریم اور ان کے حق کی ادائیگی نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ہم کو اللہ رب العالمین نے قرآن وسنت اور صحابہ کرام کے فہم کا مکلف بنایا ہے لیکن ہم نے ائمہ کے فقہ کو دین سمجھ لیا اور اسی کے مطابق فیصلے کرنے لگے تو انجام اور کیا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رویہ پر گفتگو فرمارہے تھے۔انہوں نے سورہ بقرہ کی آیت کریمہ’’ الطلاق مرتان‘‘ پیش کرکے اس سے متعلق بے شمار مفسرین کے اقوال ذکر کئے اور فرمایا کہ احناف کے بڑے بڑے علماء نے ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کرنے کی بات کہی ہے، اس سلسلہ میں علامہ ابن تیمیہ کے علاوہ علامہ ابوبکر جصاص حنفی، علامہ سندھی حنفی، شیخ محمد تھانوی، علامہ آلوسی حنفی،مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا ثناء اللہ پانی پتی رحمہم اللہ کے اقوال دیکھے جاسکتے ہیں۔ مذکورہ آیت کریمہ بالکل واضح ہے کہ تین طلاق تین ماہ میں مکمل کی جائے گی۔نیز سورہ طلاق کی پہلی آیت کریمہ کی روشنی میں بھی اور صحیح مسلم اور موطا امام مالک وغیرہ کی احادیث سے ہمیںیہی پتہ چلتا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی شمار کی جائیگی۔

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے :  مولانا محمد رحمانی مدنی

اسی طرح صحیح مسلم، ابویعلی، ابوداؤد، مسند احمد وغیرہ کی احادیث کے مطابق ابن عمر اور ابورکانہ رضی اللہ عنہما وغیرہ کے واقعات بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کیا اور تین بار طلاق کے الفاظ سے غضبناک بھی ہوئے۔مولانا نے واضح الفاظ میں کہا کہ مسلم خواتین کو یونانیوں، پارسیوں،ایرانیوں،اومانیوں اور چینیوں نیز ہندومت،بدھ مت اور یہود ونصاری کی تہذیب کے مقابلہ میں اسلام نے ابتداء ہی سے عزت دی ہے اور ان کے مقام کوبلند کیا ہے۔آج جو یہ بات کہی جارہی ہے کہ مسلم خواتین کو حکومت یا عدلیہ کے ذریعہ حق ملا ہے ایسا قطعی نہیں ہے یہ حق تو مسلم خواتین کو اسلام نے تقریبا ساڑھے چودہ سو برس پہلے ہی دیا ہے جسے ہم نے قرآن وسنت سے دوری کے نتیجہ میں خود ہی بھلا دیا ہے۔اس لئے میری گزارش ہے کہ ہم قرآن وسنت کی جانب رجوع کرکے صحیح اسلام کو سمجھیں تاکہ ہم دشمنان اسلام کے نت نئے فتنوں سے بچ سکیں ،اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی ہے ۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز