مایاوتی اور اکھلیش یادو کو ان کے اپنے ووٹ بینک نے ہی دھوکہ دیا : مولانا سلمان ندوی

Mar 16, 2017 11:10 PM IST | Updated on: Mar 16, 2017 11:10 PM IST

لکھنو (طارق قمر ) اترپردیش میں بی جے پی کی تاریخی کامیابی پرکہیں خوشی ہے تو کہیں غم۔ کچھ لوگ اس کامیابی کو ہضم نہ کرکے ای وی ایم کے استعمال کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ، تو کچھ یہ بھی مانتے ہیں کہ شکست خوردہ جماعتوں کو اعتراف کر لینا چاہئے کہ ان کا بنیادی ووٹ بینک اب ان کا ساتھ چھوڑ چکا ہے، جس کی وجہ سے شکست ان کی تقدیر بنی ہے اور مسلم ووٹ بینک نے ان کی عزت بچانے کا کام کیا ہے۔

یوپی میں بی جے پی کی کامیابی نے لوگوں کو حیران تو کیا ہی ، ساتھ ہی ساتھ بہت کچھ سوچنے کا سامان بھی موقع فراہم کردیا ہے۔ مایاوتی کا الزام ہے کےای وی ایم کے ذریعہ بدعنوانی اور بے ایمانی کی گئی ہے۔ اکھلیش وراہل خاموش ہیں اورعلما کرام اپنے اپنے طور پر بدلے ہوئے سیاسی حالات کا تجزیہ کررہے ہیں ۔

مایاوتی اور اکھلیش یادو کو ان کے اپنے ووٹ بینک نے ہی دھوکہ دیا : مولانا سلمان ندوی

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ الیکشن کے دوران مولانا سلمان ندوی سے ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے ملاقات کرکے بی ایس پی سے سمجھوتے کی سفارش کرانا چاہی تھی۔ مولانا کلب جواد اوراحمد بخاری نے بھی مایاوتی کی حمایت کا کھل کر اعلان کیا تھا اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کانگریس وسماج وادی پارٹی کے اتحاد میں یقین ظاہر کیا تھا۔ ڈاکٹر عمار رضوی تو کانگریس کے سینئر لیڈر ہیں تو انہوں نے بھی وہی کیا تھا جو ایک سلجھے ہوئے لیڈرکو کرنا چاہئے۔

لیکن ان تمام پہلوؤں کے باوجود مولانا سلمان ندوی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اس تبدیلی سے زیادہ سبق حاصل کرنے کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس مرتبہ اتنا تو ہوا ہے کہ بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی نےاپنی شکست کے ٹھیکرے مسلمانوں کے سروں پر نہیں پھوڑے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز