سعودی عرب پوری طرح سے امریکہ کے دباؤ میں کام کر رہا ہے : مولانا سلمان ندوی

مولانا سلمان ندوی نے واضح کردیا کہ سعودی عرب کی ناروا پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں ان کے خلاف اس انداز کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ۔

Oct 03, 2017 09:08 PM IST | Updated on: Oct 03, 2017 09:08 PM IST

 لکھنؤ۔ ’’سعودی عرب پوری طرح سے امریکہ کے دباؤ میں ہے اور وہ مسلم ممالک کی مدد کرنے کے بجائے صلیبیت اور صہیونیت کی طرف جا رہا ہے۔ مسلم ملکوں سے ناطہ توڑ کر صہیونی ملکوں سے اپنے رشتے استوار کر رہا ہے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین مولانا سلمان ندوی نے گزشتہ روز ای ٹی وی کے ساتھ بات چیت میں کیا۔ واضح  رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے کچھ علما نے مولانا سلمان ندوی پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں یہ خبر بھی گرم تھی کہ ندوہ سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین کو سعودی عرب کے دباو میں عمان سے نکال دیا گیا اور انہیں فوراً ملک چھوڑنا پڑا۔

تاہم، لکھنؤ واپسی پر مولانا سلمان ندوی نے ایسے تمام الزامات کی تردید کی۔  ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ سعودی عرب کی ناروا پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں ان کے خلاف اس انداز کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ۔ مولانا کے مطابق، ان کے ابوبکر البغدادی سے تعلق کی بناء پر طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔  الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ البغدادی کو بھی ناصحانہ تحریر بھیجی گئی تھی ۔

سعودی عرب پوری طرح سے امریکہ کے دباؤ میں کام کر رہا ہے : مولانا سلمان ندوی

مولانا سلمان ندوی کہتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی ملک چھوڑنے کے لئے مجبور نہیں کیا گیا اور ان کے بشمول عمان ، ترکی سمیت کئی ممالک کے علمائے کرام سے بہتر اور خوشگوار تعلقات ہیں۔

مولانا سلمان ندوی کہتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی ملک چھوڑنے کے لئے مجبور نہیں کیا گیا اور ان کے بشمول عمان ، ترکی  سمیت کئی ممالک کے علمائے کرام سے بہتر اور خوشگوار تعلقات ہیں۔ وہ اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز