اجودھیا تنازع : مسجد کیلئے وقف جگہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے ، خواہ ڈھانچہ موجود ہو یا نہ ہو : مولانا ارشد مدنی

انہوں نے کہا کہ شریعت کے نزدیک جو جگہ مسجد کے لئے وقف ہوجائے وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہی رہتی ہے خواہ وہاں کوئی ڈھانچہ موجودہویا نہ ہو، مسجد کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوتی ہے۔

May 16, 2018 12:44 PM IST | Updated on: May 16, 2018 12:44 PM IST

نئی دہلی : گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل جاری بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت منگل کو ایک بار پھر دو پہر دو بجے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ کے سامنے شروع ہوئی ، جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئروکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے بحث کاآغاز کیا اور عدالت کو بتایا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسجد اللہ کا گھر ہے اور نماز کی ادائیگی بنیادی ارکان میں شامل ہے۔

جمعیۃ علما ہند کے وکیل کی دلیل پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ آج ہمارے وکلا نے عدالت میں بہت اچھی بحث کی اور مسجد کی شرعی حیثیت پر قرآن واحادیث کے دلائل بھی پیش کئے ۔انہوں نے کہا کہ شریعت کے نزدیک جو جگہ مسجد کے لئے وقف ہوجائے وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہی رہتی ہے خواہ وہاں کوئی ڈھانچہ موجودہویا نہ ہو، مسجد کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوتی ہے۔

اجودھیا تنازع : مسجد کیلئے وقف جگہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے ، خواہ ڈھانچہ موجود ہو یا نہ ہو : مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے تعلق سے یہ بات بھی کہیں جاسکتی ہے کہ اگر چہ 6 دسمبر 1992کو وہاں مسجد کی عمارت کو منہدم کیا جاچکا ہے ، لیکن جو زمین ہے وہ مسجد کے ہی صیغہ میں آتی ہے چنانچہ وہاں اب کوئی دوسری تعمیر نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ جب حتمی فیصلہ کے لئے معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو اس معاملہ میں زیادہ بیان بازی نہیں کی جانی چاہئے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز